LIVE
Loading Breaking News...

انڈونیشیا میں پائرولیسیس ٹیکنالوجی اور ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس

News Image
انڈونیشیا کی حکومت نے کوڑے سے توانائی بنانے والے پلانٹس کی معاونت کے لیے پائرولیسیس ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے فضلے کے بحران سے نمٹنا اور ماحول دوست توانائی کا حصول ہے۔
جکارتا: انڈونیشیا کے امورِ خوراک کے کوآرڈینیٹنگ وزیر ذوالکفل حسن نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں کوڑے سے توانائی (WtE) بنانے والے پلانٹس کی معاونت کے لیے پائرولیسیس ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھرپور حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ فیصلہ ملک بھر میں کوڑے کے بڑھتے ہوئے ڈھیروں اور ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ روایتی طریقوں کے مقابلے میں جدید تکنیک زیادہ موثر ثابت ہوگی۔ پائرولیسیس ایک ایسا کیمیائی عمل ہے جس کے ذریعے نامیاتی فضلے کو آکسیجن کی غیر موجودگی میں اعلی درجہ حرارت پر تحلیل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں قابلِ استعمال ایندھن، گیس اور دیگر مفید بائی پروڈکٹس حاصل ہوتے ہیں جنہیں بجلی کی پیداوار میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ نہ صرف فضلے کو ٹھکانے لگانے میں مدد دیتا ہے بلکہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کا مقصد بڑے شہروں میں کچرے کے انتظام کو بہتر بنانا اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے۔ انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں کچرے کے بڑھتے ہوئے انبار ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں جنہیں حل کرنے کے لیے حکومتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارتِ خوراک اور دیگر متعلقہ ادارے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے نجی شعبے کے ساتھ بھی تعاون کے خواہاں ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے نفاذ سے نہ صرف صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ملک کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنانے کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ حکومت آئندہےے مہینوں میں اس منصوبے کے تحت کئی نئے پائلٹ پروجیکٹس شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس کی افادیت کا زمینی سطح پر جائزہ لیا جا سکے۔