LIVE
Loading Breaking News...

مغربی یورپ میں گرم ترین جون اور جولائی ریکارڈ، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات

News Image
مغربی یورپ نے تاریخ کے گرم ترین ماہِ جون اور جولائی کا سامنا کیا ہے جس کی تصدیق یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے نے کی ہے۔ اس شدید گرمی کی لہر اور جنگلات کی آگ نے معیشت پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں جن سے ترقیاتی اہداف متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
مغربی یورپ نے حالیہ مہینوں کے دوران تاریخ کے سب سے گرم ترین جون اور جولائی کا سامنا کیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کی جانب سے کی گئی ہے۔ خطے میں اس موسم گرما کے دوران درجہ حرارت نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور متعدد ممالک کو شدید ترین ہیٹ ویوز اور جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس موسمیاتی شدت نے نہ صرف عام زندگی کو مفلوج کیا بلکہ خطے کے بنیادی ڈھانچے اور ماحولیات کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کے پیچھے عالمی حددرجہ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیاں بنیادی محرک کے طور پر کارفرما ہیں۔ اس طویل اور شدید گرمی کی لہر نے یورپ کی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق اس سختی سے یورپی معیشت پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ماہرین اقتصادیات یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اس نوعیت کی موسمیاتی شدت کی وجہ سے سال 2026ء میں یورپی یونین کی مجموعی اقتصادی ترقی کو شدید دھکا لگ سکتا ہے یہاں تک کہ ترقیاتی رفتار بھی صفر تک آ سکتی ہے۔ ٹریڈیوڈز بینک سمیت کئی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت حکمت عملی طے نہ کی گئی تو زرعی شعبے، سیاحت اور پیداواری صلاحیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ فرانس 24 اور سی این این کی رپورٹس کے مطابق اس موسم گرما میں فرانس، اسپین اور دیگر مغربی یورپی ممالک میں درجہ حرارت خطرناک حد تک بلند رہا۔ حکومتیں اور انتظامیہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے پر مجبور ہوئیں، جبکہ شہریوں کو بھی شدید گرمی سے بچنے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کی گئیں۔ جنگلات میں لگنے والی آگ بجھانے کے لیے ریسکیو اداروں کو طویل جدوجہد کرنی پڑی کیونکہ خشک سالی اور تیز ہواؤں نے آگ کے پھیلاؤ کو مزید تیز کر دیا تھا۔ یہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں اب محض مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ حال کی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہیں۔ دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا ہے کہ کاربن کے اخراج میں کمی اور پائیدار توانائی کے استعمال کو فروغ دیے بغیر اس طرح کے خطرناک موسمی بحرانوں سے بچنا ناممکن ہے۔ یورپی رہنماؤں کے لیے اب یہ لمحہ فکریہ ہے کہ وہ معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں۔