LIVE
Loading Breaking News...

پیٹرس مجوندو کی کانگو معدنیات اور ٹرمپ معاہدے پر اہم انتباہ

News Image
سابق این ایف ایل اسٹار اور جمہوری جمہوریہ کانگو کے صدارتی امیدوار پیٹرس مجوندو اموامبا نے خبردار کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کا اہم معدنیات کا معاہدہ چینی غلبے کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر درست حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو کانگو کے وسائل کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
جمہوری جمہوریہ کانگو کے صدارتی امیدوار اور سابق این ایف ایل کھلاڑی پیٹرس مجوندو اموامبا نے ایک حالیہ انٹرویو میں انتہائی اہم انکشافات کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کانگو کے ساتھ طے پانے والا اہم معدنیات کا اسٹریٹجک معاہدہ شدید خطرے سے دوچار ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کی ذمہ داری کانگو کی خراب حکمرانی اور ملک میں چین کے بڑھتے ہوئے تسلط پر عائد کی ہے، جس نے خطے کے وسائل کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ پیٹرس مجوندو اموامبا کے مطابق، اگر بروقت درست اور مؤثر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو کانگو کے قیمتی قدرتی وسائل مقامی آبادی کی بجائے بیرونی طاقتوں اور بدعنوان عناصر کی نذر ہو جائیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر نایاب اور اہم معدنیات کی رسد کے لیے بڑی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی عروج پر ہے۔ سابق فٹبالر کا کہنا ہے کہ وہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک جامع اور متبادل منصوبہ رکھتے ہیں جو نہ صرف کانگو کے مفادات کا تحفظ کرے گا بلکہ بین الاقوامی شراکت داروں بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی متوازن بنائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ کانگو کی حکومت کو شفافیت اور بہتر حکمرانی کو ترجیح دینا ہوگی تاکہ ملک کو معاشی دلدل سے نکالا جا سکے اور عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلائے جائیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیٹرس مجوندو کی یہ وارننگ بین الاقوامی سیاست اور معدنیاتی تجارت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، کیونکہ کانگو دنیا بھر میں کوبالٹ اور دیگر اہم معدنیات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔