Pakistan
پنجاب میں غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف کارروائی، ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد ڈسچارج
پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ملک بدری کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار چار سو اڑسٹھ غیر قانونی افراد کو باعزت طریقے سے ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔
صوبہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے انخلا کے حوالے سے جاری مہم کے دوران اب تک ایک لاکھ چالیس ہزار چار سو اڑسٹھ (140,468) غیر قانونی افغان باشندوں کو ان کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں ملک بھر میں غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف جاری آپریشن کا حصہ ہیں، جن کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور ملک کے قانونی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے ان تمام افراد کی واپسی کے لیے تمام ضروری انتظامی اور لاجسٹک انتظامات مکمل کیے گئے تھے تاکہ یہ عمل پُرامن اور قانون کے دائرے میں رہ کر انجام پائے۔
دوسری جانب بین الاقوامی امدادی ادارے اور تنظیمیں جیسے کہ او سی ایچ اے (OCHA) اور آئی او ایم (IOM) اس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان اور ایران سے لاکھوں افغان باشندوں کی واپسی کے بعد افغانستان کے کمزور طبقات پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی سے مقامی معیشت اور انسانی حقوق کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے متاثرہ علاقوں میں انسانی بنیادوں پر فوری امداد اور بین الاقوامی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن کے پاس قانونی دستاویزات یا ویزے موجود ہیں، انہیں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا، تاہم قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ سیکورٹی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کی نشاندہی کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں اور اس عمل میں تمام بین الاقوامی اصولوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھیں۔
عوام اور سول سوسائٹی کے مختلف حلقوں کی جانب سے اس پالیسی پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف جہاں ملکی سلامتی کے تناظر میں اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف انسانی بنیادوں پر سرحدی انتظام اور مہاجرین کے مسائل کے حل کے لیے مستقل لائحہ عمل بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا موقف ہے کہ تمام ملکی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے گا اور کسی بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔