Business
تھمز واٹر کا نئے مالیاتی سربراہ کو ایک ملین پاؤنڈ سائننگ آن فیس دینے کا انکشاف
برطانیہ کے مالی مشکلات کا شکار ادارے تھمز واٹر نے نئے چیف فنانشل آفیسر اسٹیو بک کو کمپنی میں شمولیت پر ایک ملین پاؤنڈ کا بھاری سائننگ آن فیس ادا کیا ہے۔ اس اقدام پر صارفین اور ماہرین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے جو پہلے ہی کمپنی کے مالی بحران سے پریشان ہیں۔
برطانیہ کی مالی مشکلات اور شدید تنقید کی زد میں رہنے والی یوٹیلیٹی کمپنی تھمز واٹر نے ایک بار پھر تنازع کو جنم دے دیا ہے۔ کمپنی نے اپنے نئے چیف فنانشل آفیسر اسٹیو بک کو ادارے میں شمولیت پر آمادہ کرنے کے لیے دس لاکھ پاؤنڈ یعنی ایک ملین پاؤنڈ کی بھاری بھرکم 'سائننگ آن' فیس ادا کی ہے۔ اس اقدام نے ایک ایسے وقت میں مالیاتی حلقوں اور صارفین میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جب کمپنی خود شدید مالی بحران اور بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اسٹیو بک کو یہ سات ہندسی ادائیگیاں اس مجموعی پیکیج کا حصہ تھیں جو انہیں اس کٹھن وقت میں اس مشکل ترین ذمہ داری کو سنبھالنے کے لیے رضمند کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا تھا۔ تھمز واٹر ان دنوں اپنی فنڈنگ کے مسائل اور اندرونی انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے خبروں میں ہے، اور ایسے حالات میں کسی اعلیٰ عہدیدار کو اتنی بڑی رقم بطور ایڈوانس یا بونس دینا عام صارفین اور عوامی حلقوں میں سخت ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
کمپنی کے اس فیصلے پر ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تو ادارے کو مالی معاونت کی اشد ضرورت ہے اور دوسری طرف اعلیٰ انتظامیہ کو منہ مانگے اور خطیر پیکجز سے نوازا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کارپوریٹ سیکورٹیز اور یوٹیلیٹی کمپنیوں میں اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے حامل افراد کو برقرار رکھنے کے لیے کس قدر شدید مسابقت پائی جاتی ہے، چاہے ادارے خود خسارے میں ہی کیوں نہ جا رہے ہوں۔
تھمز واٹر کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ یہ ادائیگیاں کمپنی کے طویل مدتی مفاد اور بہترین کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی اصلاحاتی کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم، عام عوام اور بل ادا کرنے والے صارفین کے لیے یہ ہضم کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ ایک بحران کے شکار ادارے کا سربراہ محض ملازمت شروع کرنے پر ہی اتنی بڑی رقم کا حقدار قرار پا گیا ہے۔