World
چین میں سمندری طوفان ڈولفن، دس لاکھ افراد کا انخلاء
چین میں آنے والے شدید سمندری طوفان ڈولفن کے پیش نظر حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے دس لاکھ سے زائد شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ طوفان کے باعث ساحلی علاقوں میں تیز ہواؤں اور موسلا دھار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے نظام زندگی عارضی طور پر معطل ہو گیا ہے۔
بیجنگ: چین کے ساحلی علاقوں میں آنے والے طاقتور سمندری طوفان ڈولفن کے خطرے کے پیش نظر حکومت نے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کرتے ہوئے قریباً دس لاکھ افراد کو ان کے گھروں سے محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے اس خطرناک طوفان کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا تھا تاکہ کسی بھی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طوفان کے راستے میں آنے والے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس کے پیش نظر یہ احتیاطی قدم اٹھایا گیا ہے۔
طوفان ڈولفن کے گزرنے والے راستوں پر واقع شہروں میں تمام تعلیمی ادارے، کاروباری مراکز اور تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر میں شدید طغیانی کے باعث تمام آبی سرگرمیوں، ماہی گیری اور بحری جہازوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں بجلی کی فراہمی کے نظام کو بھی نقصان پہنچا ہے جسے بحال کرنے کے لیے ایمرجنسی ٹیمیں الرٹ رکھی گئی ہیں۔ ریسکیو اداروں کے اہلکار دن رات امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور لوگوں کو خوراک، پانی اور طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق حالیہ برسوں میں اس خطے میں آنے والے یہ سب سے شدید سمندری طوفان میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے خطے کے دیگر ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سمندری طوفانوں کی شدت اور تعدد میں اضافہ ہو رہا ہے، جو دنیا بھر کے ساحلی علاقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ چینی صدر اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور طوفان کے مکمل گزرنے تک غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔