World
پاکستان سعودی عرب ترکیہ دفاعی معاہدہ امریکہ بارے ایرانی مؤقف
ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین حالیہ دفاعی معاہدہ خطے کے ممالک کے امریکہ کے حوالے سے نظریے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایرانی ترجمان کے مطابق خطے کے ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار ختم کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ دراصل خطے کے ممالک کے امریکہ کے بارے میں نظریے اور سوچ میں واضح تبدیلی کی ایک بڑی علامت ہے۔ یاد رہے کہ یہ اہم دفاعی معاہدہ جمعہ کے روز مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا جس کا مقصد اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا اور کسی بھی رکن ملک پر حملے کو تمام رکن ریاستوں پر حملہ تصور کرنا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سے تین برسوں کی صورتحال نے خطے کے ممالک کو یہ حقیقت سمجھا دی ہے کہ سلامتی کوئی ایسی شے نہیں جسے جھوٹے سیکیورٹی بروکرز سے خریدا جا سکے۔
ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے تہران کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے پاکستان، ترکیہ اور یہاں تک کہ سعودی عرب کے ساتھ گہرے مذہبی، تاریخی اور تہذیبی تعلقات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک نے اب یہ نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ وہ امریکہ اور دیگر بیرونی طاقتوں کے سیکیورٹی کے دعووں پر بھروسہ نہیں کر سکتے، اس لیے وہ اب اپنی صلاحیتوں اور باہمی تعاون پر انحصار کرنے کا نیا راستہ اپنا رہے ہیں۔ ایران نے ہمیشہ علاقائی ممالک کے مابین تعاون پر مبنی اور بیرونی مداخلت سے پاک سیکیورٹی میکانزم کی حمایت کی ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ خطے کے کسی بھی ایسے ملک کے لیے کھلا ہے جو اس کے بنیادی اصولوں کو ماننے کے لیے تیار ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا واحد مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ اس دوران کویت، کانگو اور دیگر ممالک کے اعلیٰ حکومتی رہنماؤں نے بھی اس معاہدے کے تناظر میں پاکستانی قیادت سے رابطے کیے ہیں اور اسٹریٹجک تعاون کو سراہا ہے۔