LIVE
Loading Breaking News...

ایڈورڈو میپেলি نے شادی ٹوٹنے کی افواہوں پر کیا کہا؟

News Image
ایڈورڈو میپেলি نے حالیہ دنوں میں گردش کرنے والی ان افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں ان کی ازدواجی زندگی میں کشیدگی کا دعویٰ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے تعلقات میں کوئی دراڑ نہیں آئی اور وہ اپنی ازدواجی زندگی سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔
برطانوی شاہی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے اور نامور شخصیت ایڈورڈو میپেলি نے بالآخر اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے زیر گردش افواہوں پر خاموشی توڑ دی ہے۔ گزشتہ کچھ ہفتوں سے میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ خبریں بڑی تیزی سے پھیل رہی تھیں کہ ان کی شادی شدہ زندگی میں شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں اور دونوں جلد ہی الگ ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان افواہوں نے ان کے مداحوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی تھی کیونکہ اس جوڑے کو ہمیشہ ایک خوشگوار اور مستحکم جوڑے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ ان تمام بے بنیاد خبروں اور قیاس آرائیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایڈورڈو میپেলি نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں پھیلائی جانے والی باتیں سراسر جھوٹی اور من گھڑت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی خبروں کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے اور ان کے گھریلو حالات بالکل ٹھیک ہیں۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ بغیر تصدیق کے اس طرح کی حساس خبریں نشر کرنے سے گریز کریں تاکہ کسی کی نجی زندگی کو غیر ضروری طور پر اچھالا نہ جائے۔ ماضی میں بھی اس جوڑے کو متعدد بار میڈیا کی بے بنیاد خبروں کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن انہوں نے ہمیشہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے افواہوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا۔ اس تازہ ترین بیان کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ ان کی ازدواجی زندگی کے بارے میں پھیلنے والی تمام غلط فہمیاں اب ختم ہو جائیں گی۔ ان کے چاہنے والوں نے بھی اس وضاحت کے بعد سکھ کا سانس لیا ہے اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ شوبز اور شاہی مبصرین کا ماننا ہے کہ سلیبریٹیز کی نجی زندگی کے بارے میں افواہیں پھیلانا سوشل میڈیا کا ایک عام منفی رجحان بن چکا ہے، جس پر قابو پانے کے لیے مصدقہ ذرائع پر انحصار کرنا انتہائی ضروری ہے۔ ایڈورڈو میپেলি کے اس بروقت اور واضح مؤقف نے تمام افواہوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے تعلقات میں اب بھی مضبوطی اور باہمی اعتماد موجود ہے۔