LIVE
Loading Breaking News...

نانسی گتھری کیس: خطوط جعلی اور واقعہ ڈکیتی کا شاسانہ قرار

News Image
نانسی گتھری کے مبینہ اغوا سے جڑے دو خطوط کی اصلیت پر تفتیش کاروں کو شدید شکوک و شبہات کا سامنا ہے۔ ماہر نفسیات ڈاکٹر کرس موہنڈی کا کہنا ہے کہ یہ کیس کسی اغوا کے بجائے بگڑی ہوئی ڈکیتی کی واردات معلوم ہوتا ہے۔
نانسی گتھری کے مبینہ اغوا کے سلسلے میں سامنے آنے والے دو خطوط نے تفتیش کاروں کو چکرا کر رکھ دیا ہے، اور ان کی اصلیت پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پولیس اور تحقیقاتی ادارے ان خطوط کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعی کسی مجرمانہ گروہ کا کام ہیں یا محض تفتیش کو گمراہ کرنے کی سازش۔ اس دوران معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر کرس موہنڈی نے اس کیس کے حوالے سے ایک نیا زاویہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاملہ بظاہر اغوا کاروں کا نہیں بلکہ ایک ڈکیتی کی واردات کا لگتا ہے جو کہ منصوبہ بندی کے مطابق نہ چل سکی اور بگڑ گئی۔ ماہرینِ معاشیات اور فرانزک نفسیات کے ماہر ڈاکٹر کرس موہنڈی کے مطابق، اس قسم کے جرائم میں جہاں تاوان کے لیے خطوط لکھے جاتے ہیں، اکثر اصل حقائق کو چھپانے کے لیے نقاب ڈالا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد اور حالات کا بغور جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ مجرموں کا اصل مقصد شاید گھر میں چوری یا ڈکیتی کرنا تھا، لیکن صورتحال کے اچانک بگڑ جانے کی وجہ سے بات اغوا تک جا پہنچی یا پھر اسے اغوا کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی۔ پولیس اس تھیوری پر بھی سنجیدگی سے غور کر رہی ہے کیونکہ جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ خطوط میں استعمال ہونے والی زبان اور ان کے لکھنے کا انداز بھی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ فرانزک ماہرین اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ خطوط کسی ایسے شخص نے لکھے ہیں جو متاثرہ خاندان سے واقف ہے یا پھر یہ کسی باہر کے شخص کی کارستانی ہے۔ پولیس نے اس حوالے سے مزید شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیے ہیں اور آس پاس کے علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ اصل مجرمین تک پہنچا جا سکے۔ نانسی گتھری کے اہل خانہ نے اس تمام صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلد از جلد اس پراسرار کیس کی تہہ تک پہنچیں۔ عوام میں بھی اس واقعے کے بعد سے خوف و ہراس پایا جاتا ہے اور ہر کوئی اس سنسنی خیز معاملے کے منطقی انجام کا منتظر ہے۔ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی فرانزک رپورٹس مکمل ہوں گی، کیس کی سمت مزید واضح ہو جائے گی اور اس بات کا فیصلہ کیا جا سکے گا کہ آیا یہ واقعی اغوا کا کیس ہے یا پھر بگڑی ہوئی ڈکیتی۔