LIVE
Loading Breaking News...

خلائی سفر کا انسان کے کھانے اور ذائقے پر اثر

News Image
خلا کا سفر انسانی جسم کے نظامِ انہضام اور حسی اعضاء پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، جس سے ذائقے اور نگلنے کی صلاحیت بدل جاتی ہے۔ ماہرین اس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ مائیکرو گریویٹی کی وجہ سے خلاء میں کھانے کا تجربہ زمین سے کتنا مختلف ہو جاتا ہے۔
جب کوئی خلاء باز زمین سے 250 میل یعنی 400 کلومیٹر اوپر خلاء میں سفر کرتا ہے، تو اس کے جسم میں کئی طرح کی طبی اور جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ ان تبدیلیوں میں ایک اہم مسئلہ کھانے اور پینے کی صلاحیت کا متاثر ہونا ہے۔ زمین پر کشش ثقل ہمارے جسم کے سیال مواد کو نیچے کی طرف کھینچتی ہے، لیکن خلاء میں مائیکرو گریویٹی کی وجہ سے خون اور جسمانی رطوبتیں اوپر کی طرف، یعنی چہرے اور سر کی جانب بہتی ہیں۔ اس کیفیت کی وجہ سے خلاء بازوں کو اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا ناک مستقل بند ہے اور شدید جکڑن کی سی کیفیت رہتی ہے۔ اس بند ناک اور چہرے میں سیال کی زیادتی کا براہ راست اثر ان کے حسِ ذائقہ پر پڑتا ہے۔ زمین پر ہم جو کھانا کھاتے ہیں، اس کا ذائقہ سونگھنے کی حس کے ساتھ گہرا تعلق رکھتا ہے۔ جب ناک بند ہو یا سونگھنے کی صلاحیت مدہم پڑ جائے، تو کھانوں کا ذائقہ بھی پھیکا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلاء باز اکثر شکایت کرتے ہیں کہ انہیں روایتی کھانے بے ذائقہ لگتے ہیں، اور وہ اپنے کھانوں میں زیادہ مصالحے یا تیز ذائقے والے ساس استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ کچھ ذائقہ محسوس ہو سکے۔ اس کے علاوہ، مائیکرو گریویٹی میں کھانا اور پانی نگلنا بھی ایک منفرد تجربہ ہوتا ہے۔ زمین پر کشش ثقل پانی کو گلاس سے نیچے منہ میں اور پھر خوراک کی نالی کے ذریعے معدے میں لے جانے میں مدد دیتی ہے، لیکن خلاء میں ایسا نہیں ہوتا۔ پانی کے قطرے اور کھانے کے ذرات ہوا میں تیر سکتے ہیں، اس لیے خصوصی پیکیجنگ اور نلکیوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سائنسدان اور محققین اس بات پر گہری تحقیق کر رہے ہیں کہ طویل خلائی مشنز، جیسے کہ مریخ کا سفر، کے دوران خلابازوں کو غذائیت سے بھرپور اور خوش ذائقہ خوراک کیسے فراہم کی جائے تاکہ ان کی صحت برقرار رہے۔