World
چین کا آرکٹک روٹ، آئس سلک روڈ کے ذریعے یورپ تک تجارتی رسائی
چین نے عالمی سمندری گزرگاہوں میں ممکنہ بحران اور رکاوٹوں سے بچنے کے لیے آرکٹک سمندری راستے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس نئے روٹ کے ذریعے چین اور یورپ کے درمیان بحری سفر کا دورانیہ کم ہو کر صرف بیس دن رہ گیا ہے۔
عالمی تجارت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے چین نے آرکٹک سمندری راستے کے ذریعے 'آئس سلک روڈ' کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں موجود روایتی اور تنگ سمندری گزرگاہوں اور چوک پوائنٹس کے متبادل کے طور پر ایک محفوظ اور تیز ترین تجارتی راستہ فراہم کرنا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے روٹ کا آغاز ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، جس سے عالمی سپلائی چین کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ روسی ایٹمی توانائی ادارے روساٹوم کے مطابق، آنے والے دنوں میں چین کے متعدد بحری جہاز روس کے آرکٹک روٹ کے ذریعے یورپ کے لیے روانہ ہوں گے۔ اس نئی پیش رفت کے نتیجے میں چین اور یورپی ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی ترسیل کا روایتی وقت جو کئی ہفتوں پر محیط ہوتا تھا، اب کم ہو کر صرف بیس دن رہ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ راستہ نہ صرف سفر کے فاصلے اور وقت کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی بڑی بچت کا باعث بنتا ہے۔ تاہم، ماحولیاتی ماہرین اور بین الاقوامی برادری اس سرد خطے میں بڑھتی ہوئی تجارتی نقل و حرکت اور جہاز رانی کے ماحولیاتی اثرات پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، اقتصادی مبصرین اسے عالمی تجارت کے نقشے پر ایک بڑا اسٹریٹجک قدم قرار دے رہے ہیں جو مستقبل میں بین الاقوامی تجارت کی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔