World
تھائی لینڈ میں فائرنگ کا واقعہ، سابق رکن پارلیمنٹ گرفتار
تھائی لینڈ میں چند روز کے دوران فائرنگ کا دوسرا بڑا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک 71 سالہ سابق رکن پارلیمنٹ نے سرکاری عمارت میں فائرنگ کر کے سرکاری اہلکار کو ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ ملک میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں۔
تھائی لینڈ میں تشدد کا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک سرکاری عمارت کے اندر ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک سرکاری اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اس واقعے میں ملوث 71 سالہ سابق رکن پارلیمنٹ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تھائی لینڈ میں چند روز کے اندر پیش آنے والا یہ دوسرا بڑا فائرنگ کا واقعہ ہے جس نے ملک بھر میں خوف و ہراس پھیلادیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سابق قانون ساز نے مبینہ طور پر سرکاری دفتر میں داخل ہو کر اپنے ہی ایک قریبی دوست اور سرکاری اہلکار پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا اور بعد میں جان کی بازی ہار گیا۔ واقعہ کے فوراً بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا اور ملزم کو موقع سے ہی دھر لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتاری سے قبل ملزم نے مبینہ طور پر ایک یوٹیوبر کو فون کر کے اپنے اس عمل کا اعتراف بھی کیا تھا۔
تھائی لینڈ میں گن کلچر اور اس طرح کے پرتشدد واقعات پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں ملک کے اندر فائرنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اسلحے کے لائسنس کے قوانین کو مزید سخت کیا جائے تاکہ اس قسم کے سانحات کو روکا جا سکے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے تاکہ اس گھنائونے فعل کے محرکات کا پتا لگایا جا سکے کہ آیا اس کے پیچھے کوئی ذاتی دشمنی تھی یا کوئی اور سیاسی و ذاتی تنازعہ کارفرما تھا۔ مقتول کے لواحقین اور سرکاری حکام کی جانب سے اس واقعے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور انصاف کا مطالبہ کیا گیا ہے۔