Business
لکی انویسٹمنٹس کو پاکستان میں بلند ترین AM1 ایسٹ مینیجر ریٹنگ مل گئی
لکی انویسٹمنٹس نے مالیاتی شعبے میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے پاکستان کی بلند ترین اے ایم ون (AM1) ایسٹ مینیجر ریٹنگ حاصل کر لی ہے۔ یہ ریٹنگ کمپنی کی بہترین کارکردگی، اعلیٰ ترین گورننس اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔
کراچی: (نیکسو را نیوز اردو) پاکستان کے معروف مالیاتی اور کاروباری ادارے لکی انویسٹمنٹس نے ملک کی تاریخ میں ایک اور شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلند ترین اے ایم ون (AM1) ایسٹ مینیجر ریٹنگ اپنے نام کر لی ہے۔ اس باوقار ریٹنگ کا حصول کمپنی کی مضبوط مالیاتی بنیادوں، پیشہ ورانہ مہارت اور شفاف کاروباری طریقوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ سنگ میل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ادارہ اپنے سرمایہ کاروں کو بہترین اور محفوظ ترین مالیاتی خدمات فراہم کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، اے ایم ون (AM1) ریٹنگ حاصل کرنا کسی بھی ایسٹ مینجمنٹ کمپنی کے لیے انتہائی اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ اس ریٹنگ کے حصول کے لیے اداروں کو سخت ترین معیارات پر پورا اترنا پڑتا ہے، جن میں رسک مینجمنٹ، اندرونی کنٹرولز، کارپوریٹ گورننس اور پورٹ فولیو مینجمنٹ کی بہترین کارکردگی شامل ہیں۔ لکی انویسٹمنٹس نے ان تمام شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے یہ اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے جو ملک کے مجموعی سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے بھی ایک خوش آئند بات ہے۔
اس کامیابی کے بعد لکی انویسٹمنٹس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز ہماری پوری ٹیم کی محنت، دیانت داری اور سرمایہ کاروں کے ہم پر اعتماد کا نتیجہ ہے۔ ہم اپنے کلائنٹس کو مستقبل میں بھی بہترین مالیاتی حل اور منافع بخش مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان کے مالیاتی اور سرمائے کی منڈیوں میں اس طرح کی کامیابیاں نہ صرف اداروں کی اپنی ساکھ کو مضبوط کرتی ہیں بلکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال کرتی ہیں، جس سے معیشت کو استحکام ملتا ہے۔
لکی انویسٹمنٹس کی جانب سے یہ بلند ترین ریٹنگ حاصل کرنا اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ پاکستانی مالیاتی مارکیٹ میں ترقی اور شفافیت کے لامحدود امکانات موجود ہیں۔ اس سنگ میل کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مزید نئے سرمایہ کار لکی انویسٹمنٹس کے ساتھ اپنے مالیاتی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے رجوع کریں گے، جس سے بالآخر پاکستان کے مجموعی معاشی منظر نامے پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔