LIVE
Loading Breaking News...

آئی فون 18 پرو مینوفیکچرنگ کاسٹ میں 38 فیصد اضافہ

News Image
رپورٹس کے مطابق ایپل کے آئندہ آنے والے آئی فون 18 پرو کی تیاری کی لاگت میں تقریباً اڑتیس فیصد اضافہ متوقع ہے۔ میموری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے کمپنی کے پرافٹ مارجنز پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔
معروف مارکیٹ ریسرچ فرم ٹینڈ فورس کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایپل کے آنے والے فلیگ شپ سمارٹ فون آئی فون 18 پرو کی مینوفیکچرنگ لاگت میں پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ اندازے کے مطابق اب اس فون کو تیار کرنے میں تقریباً اڑتیس فیصد زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ عالمی سطح پر میموری اور ہارڈ ویئر کے پرزہ جات کی قیمتوں میں تیزی سے ہوتا ہوا اضافہ ہے۔ یہ صورتحال ایپل کمپنی کے منافع کے مارجن کو محدود کرنے کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ خام مال مہنگا ہونے کی وجہ سے کمپنی کو پیداواری لاگت اور صارفین کے لیے حتمی قیمت کے درمیان توازن قائم کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ میموری اور دیگر اہم اجزاء کی قیمتوں میں یہ تیزی نہ صرف ایپل بلکہ پوری سمارٹ فون انڈسٹری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی مارکیٹ میں اس بات چیت کا آغاز بھی ہو چکا ہے کہ آیا ایپل اس اضافی لاگت کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل کرے گا یا پھر اپنے منافع کے مارجن کو کم کرنے پر اکتفا کرے گا۔ ستمبر میں متوقع نئے آئی فونز کی لانچنگ سے قبل اس قسم کی مالیاتی رپورٹس نے سرمایہ کاروں اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ ایپل کی جانب سے تاحال اس رپورٹ پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم مارکیٹ کے حالات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہارڈ ویئر کی قیمتیں پریمیم سمارٹ فونز کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوں گی۔ اس تمام صورتحال کے باوجود، ایپل اپنے روایتی شیڈول کے مطابق نئے سمارٹ فونز کو مارکیٹ میں لانے کی تیاری کر رہا ہے اور دنیا بھر کے صارفین بے صبری سے ستمبر میں ہونے والی اس بڑی لانچ کا انتظار کر رہے ہیں۔