LIVE
Loading Breaking News...

سمندروں کے درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ، جولائی گرم ترین مہینہ

News Image
عالمی سمندروں میں رواں سال جولائی کے دوران درجہ حرارت کی تمام پچھلی حدیں ٹوٹ گئیں، جس کی بڑی وجہ بحر الکاہل میں ایل نینو کے حالات کا ابھرنا ہے۔ اس موسمی تبدیلی کے اثرات کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی اور مغربی یورپ کے جنگلات میں تباہ کن آگ کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
عالمی سمندروں نے رواں سال جولائی کے دوران درجہ حرارت کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، تاریخ میں کبھی بھی جولائی کے مہینے میں سمندر کا پانی اس قدر گرم نہیں دیکھا گیا جتنا اس بار ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس غیرمعمولی اضافے کے پیچھے بنیادی محرک بحر الکاہل میں ابھرنے والے 'ایل نینو' (El Niño) کے موسمی حالات ہیں، جو دنیا بھر کے درجہ حرارت پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس خطرناک موسمی رجحان کے نتیجے میں نہ صرف سمندری حیات کو خطرات لاحق ہیں بلکہ زمین کے اوسط درجہ حرارت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ محققین اور ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت پوری دنیا کے موسم کے نظام کو درہم برہم کر رہی ہے۔ اس عالمی حرارت کے براہ راست اثرات خشکی پر بھی واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں، جہاں مغربی یورپ کے مختلف حصوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار ہے۔ اس شدید گرمی اور خشک سالی کے باعث مغربی یورپ کے جنگلات میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی ہے، جس نے بڑے پیمانے پر جنگلات اور املاک کو خاکستر کر دیا ہے۔ فائر فائٹرز اور امدادی ٹیمیں ان خوفناک آتش زدگی پر قابو پانے کے لیے دن رات جدوجہد کر رہی ہیں، لیکن حالات بدستور تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو فوری طور پر کم نہ کیا گیا اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے، تو آنے والے برسوں میں سمندروں کے درجہ حرارت میں مزید خطرناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف ساحلی علاقوں کے لیے بلکہ پوری دنیا کے ماحولیاتی توازن کے لیے ایک بہت بڑا انتباہ ہے۔ عالمی رہنماؤں اور اداروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ اور فوری حکمت عملی تیار کریں تاکہ زمین کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔