LIVE
Loading Breaking News...

بچپن کے استحصال کی یاد اور انصاف کی جنگ

News Image
ملیسا آرک رائٹ کو تھراپی کے دوران اپنے بچپن میں ہونے والے جنسی اور جسمانی استحصال کی دردناک یادیں واپس ملیں۔ ان یادوں کی بازیابی کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی جس کے نتیجے میں ان کا استحصال کرنے والا شخص قانون کی گرفت میں آگیا۔
زندگی کے ابتدائی سالوں میں پیش آنے والے تلخ اور ہولناک واقعات اکثر انسانی ذہن کے نہاں خانوں میں چھپ جاتے ہیں، جنہیں دماغ صدمے سے بچانے کے لیے وقتی طور پر فراموش کر دیتا ہے۔ ایسا ہی کچھ برطانوی خاتون ملیسا آرک رائٹ کے ساتھ پیش آیا، جنہیں اپنے بچپن میں ہونے والے خوفناک استحصال کا کوئی شعوری علم نہیں تھا۔ برسوں تک وہ ایک عام زندگی گزارتی رہیں، لیکن ان کے لاشعور میں دبا ہوا یہ درد مسلسل ان کی ذہنی صحت پر اثر انداز ہو رہا تھا، جس کی اصل وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھیں۔ ماہرین کے مطابق، شدید صدمات اکثر یادداشت کے اس حصے میں چلے جاتے ہیں جہاں تک عام حالات میں رسائی ممکن نہیں ہوتی۔ ملیسا آرک رائٹ کو اس وقت اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت کا پتہ چلا جب انہوں نے اپنی ذہنی الجھنوں اور پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ تھراپی (علاج بالمعالجہ) کا آغاز کیا۔ تھراپی کے سیشنز کے دوران جب ان کی نفسیاتی کونسلر نے مختلف تکنیکوں کی مدد سے ان کے ماضی کی تہوں کو کریدا، تو آہستہ آہستہ ان کے ذہن میں بچپن کے ان خوفناک مناظر اور واقعات کی دھندلی سی تصویریں ابھرنے لگیں۔ یہ انکشافات ملیسا کے لیے انتہائی صدمہ ناک اور دل دہلا دینے والے تھے، کیونکہ وہ یادیں جنہیں وہ کبھی بھول چکی تھیں، اب ایک ناقابل تردید حقیقت بن کر ان کے سامنے آ چکی تھیں۔ تھراپی کی بدولت ان کے پاس اس بات کے شواہد اور اندرونی اطمینان حاصل ہوا کہ ان کے ساتھ ماضی میں کیا کچھ غلط ہوا تھا۔ یاداشت واپس آنے کے بعد ملیسا آرک رائٹ نے خاموش رہنے کے بجائے انتہائی جرأت کا مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فوری طور پر قانون کا دروازہ کھٹکھٹایا اور پولیس کو اپنے ساتھ ہونے والے بچپن کے اس گھناؤنے جرم کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ پولیس نے ان کی شکایات کی بنیاد پر فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کیا اور طویل قانونی کارروائی کے بعد اس شخص کو گرفتار کر لیا گیا جس نے برسوں پہلے معصوم بچی کی زندگی کو داغدار کیا تھا۔ یہ مقدمہ اس بات کی ایک بڑی مثال ہے کہ کس طرح نفسیاتی تھراپی اور علاج کے ذریعے انسان اپنے ماضی کے تاریک ترین رازوں کو باہر نکال سکتا ہے اور دبی ہوئی سچائی کو سامنے لانے کے بعد مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جا سکتا ہے۔