Pakistan
مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے: پاکستان کا اہم بیان
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر ایک دفاعی اقدام ہے اور یہ کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق خطے میں امن و استحکام کا فروغ اس معاہدے کا بنیادی مقصد ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے بین الاقوامی برداری اور خطے کے ممالک کو واضح کیا ہے کہ حالیہ مکہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا حامل ہے اور اسے کسی بھی ملک کے خلاف ایکشن یا سازش کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ دفتر خارجہ اور متعلقہ حکومتی ذرائع کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن، سلامتی اور باہمی تعاون کا خواہاں رہا ہے اور ایسے اقدامات کا مقصد صرف اور صرف مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے معاہدے عموماً خطے کی سکیورٹی صورتحال اور ابھرتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر کیے جاتے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بیرونی خطرے سے نمٹا جا سکے۔ پاکستان نے ہمیشہ علاقائی خودمختاری کے احترام پر زور دیا ہے اور کسی بھی جارحانہ عزائم کی سختی سے نفی کی ہے۔ مکہ معاہدے کے حوالے سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کی سیاسی اور عسکری حرکیات میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں اور تمام فریقین اپنے دفاع کو مستحکم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس معاہدے سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کے بجائے استحکام کو فروغ ملے گا کیونکہ مضبوط دفاعی تعاون ہی دراصل جارحیت کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتا ہے۔ پاکستان تمام برادر ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ اس کی پالیسیاں کسی تیسرے ملک کے مفادات کے خلاف نہیں ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاہدے کے تحت سکیورٹی اور دفاعی شعبوں میں تعاون کے مزید خدوخال واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔