LIVE
Loading Breaking News...

شادی کے ڈی جے سے میٹا انجینئر اور پھر برطرفی: ہنری چن کی کہانی

News Image
ہنری چن نے تیرہ سال سے زائد عرصے تک فیس بک اور میٹا میں خدمات انجام دیں اور بالآخر مئی میں انہیں برطرف کر دیا گیا۔ ان کا یہ سفر ایک شادی کے ڈی جے سے شروع ہو کر دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی کے انجینئر تک پہنچا تھا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں آئے روز بڑی کمپنیوں کی جانب سے ملازمین کی کٹائی اور برطرفیوں کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں، لیکن کچھ کہانیاں واقعی منفرد اور حوصلہ افزا ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک کہانی ہنری چن کی ہے جن کا سفر شادیوں میں ڈی جے کا کام کرنے سے شروع ہوا اور وہ دنیا کی معروف ترین ٹیکنالوجی کمپنی میٹا میں سافٹ ویئر انجینئر کے منصب تک جا پہنچے۔ تاہم، ان کا یہ طویل اور محنت طلب سفر اس وقت ایک نئے موڑ پر پہنچ گیا جب تیرہ سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد انہیں مئی میں برطرف کر دیا گیا۔ ہنری چن کے مطابق، ان کے لیے یہ تبدیلی انتہائی حیران کن اور جذباتی تھی کیونکہ انہوں نے کمپنی کے ساتھ اپنے کیریئر کا ایک طویل حصہ گزارا تھا۔میٹا اور اس سے قبل فیس بک کے ساتھ جڑے رہنے والے ہنری چن نے اپنے کیریئر کے آخری سالوں میں شدید نوعیت کی تبدیلیاں دیکھیں۔ کمپنی کے اندر انتظامی فیصلوں، ورک کلچر اور مارکیٹ کے دباؤ کی وجہ سے مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں، جن کے اثرات ملازمین پر بھی پڑ رہے تھے۔ ہنری چن نے بتایا کہ ان تیرہ سالوں کے دوران کمپنی نے کئی نشیب و فراز دیکھے اور فیس بک سے میٹا بننے کے سفر میں انہوں نے ہر قدم پر خود کو بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ڈھالا۔ انہوں نے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کمپنی میں ایک نمایاں مقام بنایا تھا، لیکن مجموعی معاشی حالات اور کارپوریٹ حکمت عملی کی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ بھی برطرف ہونے والے ملازمین کی فہرست میں شامل ہو گئے۔برطرفی کے بعد کا یہ مرحلہ ہنری چن کے لیے ایک نئے باب کی شروعات ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جس نے ڈی جے کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا ہو اور پھر سلیکن ویلی کی بڑی ٹیک جائنٹ تک کا سفر طے کیا ہو، مشکلات کا مقابلہ کرنا کوئی نئی بات نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹا میں گزارا گیا وقت ان کے لیے سیکھنے کا ایک بہترین تجربہ رہا ہے اور وہ ان یادوں اور تجربات کو اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے۔ ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے پروفیشنلز کے لیے یہ کہانی اس بات کی عکاس ہے کہ کیریئر میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، لیکن محنت اور لگن سے انسان اپنے لیے نئے راستے بنا سکتا ہے۔ ہنری چن اب اپنے اگلے لائحہ عمل پر غور کر رہے ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے اس وسیع تجربے کی بنیاد پر مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔