LIVE
Loading Breaking News...

کاروباری ضوابط اور کمپلائنس کا بوجھ، پارلیمانی کمیٹی کو بریفنگ

News Image
ملکی کاروباری اداروں کو حکومتی ریگولیٹری کوششوں کے باوجود شدید تعمیل کے بوجھ کا سامنا ہے۔ اوورلیپنگ قوانین آپریٹنگ اخراجات بڑھا رہے ہیں اور سرمائے کی تعیناتی کو دبا رہے ہیں۔
ملکی کاروباری اداروں کو مرکزی سطح پر کیے جانے والے ڈی ریگولیشن کے اقدامات کے باوجود تاحال نمایاں کمپلائنس کے بوجھ کا سامنا ہے۔ حال ہی میں پارلیمانی کمیٹی کے سامنے دیے گئے بیانات میں اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کاروباروں کے لیے ضوابط اور ضابطہ کار کی مطلق حجم (absolute volume) اب بھی فرموں کے راستے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور کمپنیوں کو غیر ضروری انتظامی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اوورلیپنگ یعنی متضاد اور ایک دوسرے کو اوورلیپ کرنے والے قوانین کی وجہ سے نہ صرف کاروباری اداروں کے آپریٹنگ اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس سے نئے سرمائے کی تعیناتی بھی بری طرح سست پڑ گئی ہے۔ کمپنیاں اپنے فنڈز کو پیداواری صلاحیت بڑھانے کے بجائے سرکاری ضوابط کی تعمیل پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس سے مجموعی معاشی ترقی کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور کاروباری ماحول کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔ اگرچہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور آسان کاروبار (ease of doing business) کے فروغ کے لیے چار نئے لیبر کوڈز نافذ کیے ہیں، جن میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ ضوابط کے بوجھ کو کم کر سکیں، تاہم اس کے باوجود زمینی حقائق میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آئی۔ کاروباری شخصیات کا ماننا ہے کہ جب تک ان قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور ان کی زمینی تاثیر کا جائزہ نہیں لیا جاتا، اس وقت تک فرموں کو درپیش یہ رکاوٹیں ختم نہیں ہوں گی۔ پارلیمانی کمیٹی کے اراکین نے اسٹیک ہولڈرز کے تحفظات کو غور سے سنا ہے اور اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ ملکی معیشت کو ترقی دینے کے لیے نجی شعبے کو درپیش ان قانونی و ضابطہ کاری کے مسائل کو حل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس بریفنگ کے بعد متعلقہ وزارتیں اور ادارے ضوابط کو مزید آسان بنانے کے لیے ٹھوس لائحہ عمل تیار کریں گے تاکہ کاروباری اداروں کا راستہ صاف ہو سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی سرمایہ کاری کو آگے بڑھا سکیں۔