Health
ڈائیٹ سوڈا اور دماغی صحت: نئی طبی تحقیق کے اہم انکشافات
برطانیہ اور امریکہ میں کی جانے والی ایک نئی طبی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے زیادہ استعمال سے دماغی صلاحیتوں میں تیزی سے کمی واقع ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈائیٹ سوڈا کا استعمال یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔
طبی جریدے نیورولوجی میں شائع ہونے والی ایک تازہ ترین تحقیق نے دنیا بھر میں صف اول کے مقبول ترین مشروبات ڈائیٹ سوڈا کے حوالے سے انتہائی تشویشناک انکشافات کیے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق مصنوعی مٹھاس یا آرٹیفیشل سویٹنرز سے تیار کردہ مشروبات کا زیادہ استعمال انسانی دماغی صحت پر انتہائی منفی اور تباہ کن اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طویل عرصے تک ایسے مشروبات کا بکثرت استعمال کرنے والے افراد میں ادراک اور فکری صلاحیتوں کا زوال عام لوگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے ہوتا ہے۔
محققین نے طویل سائنسی مشاہدات اور تجربات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جن افراد نے اپنی روزمرہ خوراک میں مصنوعی مٹھاس اور ڈائیٹ سوڈا کا استعمال سب سے زیادہ رکھا، ان کی یادداشت اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں میں آٹھ سال کے عرصے کے دوران باسٹھ فیصد تک تیز رفتار گراوٹ دیکھی گئی۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار انتہائی معنی خیز اور تشویش ناک ہیں، کیونکہ عام طور پر ڈائیٹ سوڈا کو کیلوریز میں کمی اور جسمانی وزن کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک صحت مند متبادل سمجھ کر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ دماغی اعصاب اور یادداشت کے نظام کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہوتا ہے۔
اس ریسرچ کے نتائج نے میڈیکل کمیونٹی کو بھی ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ جدید طرز زندگی میں نوجوانوں اور ادھیڑ عمر افراد کی بڑی تعداد سافٹ ڈرنکس کی بجائے ڈائیٹ ڈرنکس کو ترجیح دیتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی مٹھاس میں پائے جانے والے کیمیائی اجزاء انسانی دماغ کے خلیات اور نیورو ٹرانسمیٹرز کے افعال کو براہ راست متاثر کرتے ہیں، جس سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دماغی کمزوری اور بولنے یا سمجھنے کی صلاحیتوں میں سستی پیدا ہونے لگتی ہے۔ ڈاکٹروں اور نیورولوجسٹس نے عوام الناس کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مصنوعی مٹھاس والے مشروبات کے بے دریغ استعمال سے گریز کریں اور اپنی غذا میں قدرتی اور متوازن اشیاء کو شامل کریں۔
طبی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ڈائیٹ سوڈا کے متبادل کے طور پر سادہ پانی، تازہ پھلوں کے جوس اور قدرتی مشروبات کا استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ جسمانی وزن کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کو بھی محفوظ رکھا جا سکے۔ اس تحقیق کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ صحت کے عالمی ادارے مصنوعی مٹھاس کے مضر اثرات کے حوالے سے مزید سخت گائیڈلائنز جاری کریں گے تاکہ عام لوگ اس خاموش خطرے سے بروقت آگاہ ہو سکیں اور سنگین دماغی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔