Business
ایشیائی ممالک کا زرمبادلہ کے ذخائر محفوظ رکھتے ہوئے کرنسی کا دفاع
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی اور امریکی شرح سود میں اضافے کے پیش نظر ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتیں زرمبادلہ کے ذخائر کو خرچ کیے بغیر اپنی کرنسی کا دفاع کر رہی ہیں۔ مرکزی بینکوں نے کرنسی کے استحکام کے لیے روایتی طریقوں کے علاوہ نئی حکمت عملیوں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی بے یقینی اور امریکی شرح سود کے طویل عرصے تک بلند رہنے کے امکانات کے پیش نظر، ابھرتی ہوئی ایشیائی معیشتوں کے مرکزی بینکوں نے اپنی کرنسی کے دفاع کے لیے حکمت عملی تبدیل کرنا شروع کر دی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بیرونی دباؤ کے باعث پالیسی سازوں کے لیے زرمبادلہ کے قیمتی ذخائر کو بچانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ روایتی طور پر مرکزی بینک مارکیٹ میں براہ راست مداخلت کے لیے اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کا استعمال کرتے ہیں، لیکن اب وہ ایسے متبادل اور جدید طریقوں کی تلاش میں ہیں جن سے ذخائر کو کم کیے بغیر کرنسی کو سہارا دیا جا سکے۔ اس ضمن میں مانیٹری پالیسی کے دیگر آلات، ریگولیٹری اقدامات اور مارکیٹ کے روٹر سے ہٹ کر اقدامات پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، عالمی سطح پر ڈالر کی مضبوطی اور خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ایشیائی ممالک کے لیے مشکلات پیدا کر رکھی ہیں۔ ایسے میں زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنا ملکی معیشت کے طویل المدتی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ مرکزی بینکوں کے ان نئے اقدامات کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سرمائے کے انخلا اور ملکی کرنسی کی قدر میں کمی کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ مالیاتی امور کے ماہرین اس نئی حکمت عملی کو ایک اہم اور بروقت قدم قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس سے نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رہتے ہیں بلکہ مارکیٹ میں بھی ایک مثبت پیغام جاتا ہے کہ پالیسی ساز کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے متبادل طریقوں کو اپنا سکتے ہیں تاکہ عالمی اقتصادی دباؤ کا مقابلہ کیا جا سکے۔