World
ایران میں قید برطانوی جوڑے کی بھوک ہڑتال ختم
ایران میں قید برطانوی جوڑے کریگ اور لنڈسے فورمین نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ بالترتیب 93 اور 84 دنوں تک بھوک ہڑتال پر تھے۔
ایران میں زیر حراست برطانوی جوڑے کریگ فورمین اور لنڈسے فورمین کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی ہے کہ انہوں نے اپنی طویل بھوک ہڑتال ختم کر دی ہے۔ برطانوی جوڑے کے اہل خانہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں افراد نے انتہائی کٹھن حالات میں طویل عرصے تک احتجاجی بھوک ہڑتال جاری رکھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق کریگ فورمین نے 93 جبکہ ان کی اہلیہ لنڈسے فورمین نے 84 دنوں تک اس بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔
اس طویل بھوک ہڑتال کے دوران دونوں برطانوی شہریوں کی صحت کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ طویل وقت تک خوراک سے گریز انسانی جسم پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ان کے عزیز و اقارب کی جانب سے مسلسل یہ مطالبات کیے جا رہے تھے کہ ان کی طبی حالت پر خصوصی توجہ دی جائے اور انہیں فوری طور پر ضروری طبی امداد فراہم کی جائے۔
اب جبکہ ان کی جانب سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، دنیا بھر میں ان کے خیرخواہوں اور متعلقہ حکام نے سکون کا سانس لیا ہے۔ تاہم، اس بات کی فوری ضرورت محسوس کی جا رہی ہے کہ ان کی صحت کو بحال کرنے کے لیے ڈاکٹروں کی نگرانی میں بہترین طبی اقدامات کیے جائیں۔ اس پورے معاملے پر برطانوی حکومت اور ایرانی حکام کے درمیان رابطے بھی جاری ہیں تاکہ اس پیچیدہ صورتحال کا کوئی منصفانہ اور پرامن حل نکالا جا سکے۔
اہل خانہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پیشرفت کے بعد دونوں برطانوی شہریوں کے قانونی اور سفارتی معاملات میں بھی بہتری آئے گی۔ دنیا بھر میں اس خبر کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ قید خانوں میں بھوک ہڑتال جیسے سخت احتجاجی اقدامات اکثر سنگین انسانی بحرانوں کا روپ دھار لیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی کوششیں متوقع ہیں تاکہ کریگ اور لنڈسے کی خیریت سے وطن واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔