LIVE
Loading Breaking News...

غزہ کے جاں بحق صحافیوں کی یاد اور ان کی لازوال قربانیاں

News Image
غزہ میں خدمات انجام دینے والے صحافیوں نے اس پیشے کو ایک نئی بلندی تک پہنچایا ہے اور اس کی بھاری قیمت اپنی جانوں کی نذر کر کے چکائی ہے۔ یہ رپورٹ ان تمام صحافیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے تنازعات کے دوران انتہائی کٹھن حالات میں حقائق دنیا تک پہنچائے۔
غزہ کے محاذ پر کام کرنے والے ہمارے صحافی ساتھیوں نے صحافت کی تاریخ میں جرأت اور استقامت کی ایک ایسی انمٹ داستان رقم کی ہے جس کی مثال دنیا کے کسی دوسرے خطے میں نہیں ملتی۔ انتہائی کٹھن حالات، بمباری کے سائے اور شدید قلت کے باوجود ان بہادر افراد نے دنیا تک سچ پہنچانے کا فریضہ انتہائی جانفشانی سے انجام دیا۔ اس راہ میں انہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔ انس اور محمد جیسے صحافیوں کے نام اس جنگ کی تاریکی میں روشنی کی مانند ہیں جو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ سچ کی خاطر جان دینا کتنی بڑی قربانی ہے۔ صحافت کو محض ایک پیشہ سمجھنے والوں کے برعکس غزہ کے ان صحافیوں نے اسے ایک مقدس مشن بنا لیا۔ انہوں نے ہر روز موت کو قریب سے دیکھنے کے باوجود اپنے کیمرے اور قلم کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ان کی رپورٹس نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے اور مظلوموں کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے اس عزم نے ثابت کر دیا کہ سچائی کو چھپانے کے لیے کتنے ہی بم کیوں نہ برسائے جائیں، حق کی آواز کو ہمیشہ زندہ رکھا جا سکتا ہے۔ آج جب ہم انس، محمد اور غزہ کے تمام شہید صحافیوں کو یاد کرتے ہیں تو ہمارا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے لیکن دل صدمے سے بوجھل بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے جو قیمت اس پیشے کی پاسداری کے لیے چکائی ہے وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور دنیا کو ان کے اس اہم کردار کا ہمیشہ اعتراف رہنا چاہیے جو انہوں نے انسانی حقوق اور حقائق کی تتر بتر تصویر کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے میں ادا کیا۔