World
ٹرمپ کی ایران پر اقتصادی دباؤ کی پالیسی اور اس کے اثرات
موجودہ کشیدگی اور جنگ کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے عسکری کارروائی کے بجائے ایک بار پھر ایران کی معیشت کو کمزور کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس پالیسی تبدیلی کے بعد تجزیہ کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ اقتصادی پابندیاں مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف ایک بار پھر معاشی دباؤ بڑھانے کے اشارے ملے ہیں، جو کہ ان کی طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ جاری تنازعہ اور کشیدگی کے کئی ماہ گزر جانے کے بعد، واشنگٹن نے براہ راست فوجی کارروائیوں کے بجائے تہران کی معیشت کو نکیل ڈالنے پر اپنی توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اس فیصلے کے تحت ایرانی مالیاتی نظام، توانائی کے شعبے اور اہم تجارتی راستوں پر دباؤ مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے تاکہ تہران کو اہم پالیسی فیصلوں پر مجبور کیا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد ایران کے مالیاتی وسائل کو محدود کرنا ہے تاکہ وہ عسکری سرگرمیوں اور خطے میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے فنڈنگ جاری نہ رکھ سکے۔ ماضی میں بھی اس قسم کے اقتصادی دباؤ کو تہران پر دباؤ بڑھانے کا ایک مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا رہا ہے، تاہم اس بار یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ پابندیاں ایران کی پالیسیوں میں خاطر خواہ تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔
دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سخت ترین پابندیوں کے باوجود تہران نے ماضی میں اپنے معاشی ڈھانچے کو متبادل راستوں اور تجارتی شراکت داروں کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی ہے۔ اس تناظر میں، ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے معاشی دباؤ کا دوبارہ نفاذ خطے کی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل کی منڈیوں اور خطے کے مجموعی امن پر براہ راست مرتب ہوں گے۔