Politics
محمود خان اچکزئی کا وزیراعظم کو خط: نئے الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے اراکین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس تاخیر کو آئینی ذمہ داری سے غفلت قرار دیتے ہوئے کمشنر کی غیر جانبدارانہ حیثیت برقرار رکھنے پر زور دیا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو ایک اہم خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے نئے چیف الیکشن کمشنر (CEC) اور سندھ و بلوچستان سے تعلق رکھنے والے دو اراکین کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا ہے۔ خط کے متن کے مطابق، ان عہدیداروں کی قانونی و آئینی مدت 26 جنوری 2025 کو مکمل ہو چکی ہے، اور اس اہم آئینی ذمہ داری کو پورا کرنا ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے تسلسل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
محمود خان اچکزئی نے اپنے خط میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 213 (2A) اور آرٹیکل 218 (2)(b) کا خصوصی حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق آئین یہ واضح کرتا ہے کہ وزیراعظم اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے درمیان مشاورت کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین ناموں کی تجاویز پارلیمانی کمیٹی کو بھیجی جانی چاہئیں تاکہ باقاعدہ سماعت اور تصدیق کا عمل مکمل ہو سکے۔ اسی طرح صوبائی اراکین کی تقرری کا طریقہ کار بھی وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی باہمی مشاورت سے مشروط ہے تاکہ کمشنر کی خودمختاری برقرار رہے۔
دوسری جانب تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایک اجلاس کے دوران بھی اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین اپنی آئینی مدت ختم ہونے کے باوجود بدستور کام کر رہے ہیں اور وزیراعظم کی جانب سے نئے ممبران کی تقرری کے لیے تاحال کوئی باقاعدہ آئینی عمل شروع نہیں کیا گیا۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ایک آزاد الیکشن کمیشن ہی ملک میں منصفانہ اور شفاف انتخابات کی واحد ضمانت ہے، اس لیے حکومت کو بلا تاخیر اپوزیشن قیادت سے رابطہ کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور سندھ و بلوچستان کے اراکین اپنی پانچ سالہ آئینی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی اس منصب پر فائز ہیں۔ اگرچہ آئین کے آرٹیکل 215 (4) کے تحت ان خالی ہونے والے عہدوں پر تقرری 45 روز کے اندر لازمی تھی، لیکن 26ویں آئینی ترمیم کے تحت شامل کیے جانے والے ایک شق کی وجہ سے موجودہ عہدیدار اس وقت تک ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جب تک ان کے جانشین مقرر نہیں ہو جاتے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے اس تاخیر پر مسلسل اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔