Technology
اصلی جرافک پارک پروجیکٹ پر کام جاری، سائنس دانوں کی نئی پیشرفت
فلمی دنیا کا مشہور جملہ 'زندگی راستہ تلاش کر لیتی ہے' اب حقیقت کا روپ دھارنے لگا ہے کیونکہ سائنس دانوں نے ایک اہم پروجیکٹ پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس انقلابی سائنسی منصوبے سے ماضی کے معدوم جانوروں کی واپسی کی امیدیں پھر سے روشن ہو گئی ہیں۔
پچھلے تیس سال سے زیادہ عرصے سے جرافک پارک کے شائقین ایک ہی جملہ بار بار سنتے آئے ہیں کہ زندگی ہمیشہ اپنا راستہ تلاش کر لیتی ہے۔ اب یہ مشہور فلمی جملہ ایک حقیقت بننے کے قریب تر ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ ایک ایسا سائنسی منصوبہ ہے جو کبھی ناممکن لگتا تھا۔ اس جدید ترین پروجیکٹ نے جینیاتی انجینئرنگ اور حیاتیاتی علوم کی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے اور محققین دن رات اس کی کامیابی کے لیے کوشاں ہیں۔
اس منصوبے کے تحت سائنس دان ایسے معدوم جانوروں کو جدید ٹیکنالوجی اور ڈی این اے کے نمونوں کی مدد سے واپس لانے پر غور کر رہے ہیں جو صدیوں پہلے اس زمین سے غائب ہو چکے تھے۔ اگرچہ یہ کام انتہائی پیچیدہ اور خطرات سے خالی نہیں ہے، تاہم جینیات کے شعبے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت نے ان امیدوں کو مزید تقویت دی ہے کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں جدید ترین جین ایڈیٹنگ ٹولز کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ معدوم نسلوں کے خلیات کو دوبارہ زندہ کیا جا سکے۔
اس انقلابی سائنسی قدم کے بعد دنیا بھر میں اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف سائنس اور تحقیق سے وابستہ افراد اسے انسانی تاریخ کی ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف ماحولیاتی ماہرین اور اخلاقیات کے علمبردار اس کے ممکنہ خطرات سے خبردار بھی کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس قسم کے تجربات کے نتائج طویل مدت میں ماحولیاتی توازن کے لیے چیلنج بن سکتے ہیں، لہذا اس حوالے سے انتہائی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔
آنے والے دنوں میں اس پروجیکٹ کے حوالے سے مزید اہم انکشافات متوقع ہیں کیونکہ تحقیقاتی ٹیمیں اپنے کام کو حتمی شکل دے رہی ہیں۔ دنیا بھر کی نگاہیں اس وقت اس سائنسی پیشرفت پر مرکوز ہیں کہ آیا سائنس واقعی تاریخ کو پیچھے دھکیل کر ان مخلوقات کو اس دنیا میں واپس لانے میں کامیاب ہو پاتی ہے یا نہیں۔