Technology
امریکہ میں فلاک سکیورٹی کیمروں کی توڑ پھوڑ اور مخالفت میں اضافہ
امریکہ کے مختلف شہروں میں فلاک کیمروں کو نشانہ بنانے اور ان کی توڑ پھوڑ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ایک سو سے زائد مقامی کمیونٹیز نے اے ایل پی آر یعنی خودکار نمبر پلیٹ ریڈر سکیورٹی سسٹمز کو باقاعدہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
امریکہ میں اے ایل پی آر (خودکار نمبر پلیٹ ریڈر) ٹیکنالوجی اور فلاک سکیورٹی کیمروں کے خلاف احتجاج اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں درجنوں فلاک کیمروں کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں شدید نقصان پہنچایا گیا۔ اس کے علاوہ یوٹاہ سے بھی ایسی ہی اطلاعات سامنے آئی ہیں جہاں ایک کاؤنٹی شیرف کے دفتر نے تصدیق کی ہے کہ ایک نیا نصب شدہ فلاک کیمرہ تنصیب کے چند ہی دنوں کے اندر توڑ پھوڑ کا شکار ہو گیا۔ کیمروں کو نشانہ بنانے کا یہ رجحان ملک بھر میں پرائیویسی اور نجی کوائف کے تحفظ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری طرف، صرف توڑ پھوڑ کے واقعات ہی سامنے نہیں آ رہے بلکہ انتظامی سطح پر بھی اس ٹیکنالوجی کی مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق امریکہ بھر میں ایک سو سے زائد مقامی کمیونٹیز اور مجالسِ مقامی نے فلاک سکیورٹی سسٹمز اور اے ایل پی آر ٹیکنالوجی کو اپنانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ان کمیونٹیز کا مؤقف ہے کہ سڑکوں اور شاہراہوں پر اس قسم کی نگرانی شہریوں کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کی براہ راست خلاف ورزی ہے، جس سے سرکاری اداروں کو شہریوں کی نقل و حرکت کا بلا جواز اور مسلسل ریکارڈ فراہم ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے نام پر لگائے جانے والے ان کیمروں نے عوامی سطح پر شدید تحفظات کو جنم دیا ہے۔ سکیورٹی کمپنیوں اور مقامی انتظامیہ کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے کیونکہ ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کے لیے اس ٹیکنالوجی کو ضروری قرار دے رہے ہیں، تو دوسری طرف عوام اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس کی شدید مخالفت اور فزیکل حملوں کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔