Business
یورپی کار ساز ادارے اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس کی نئی جنگ
یورپی کار ساز کمپنیوں کو اب چین کے سنترپت بازار سے آگے بڑھ کر دنیا کی دیگر ابھرتی ہوئی مارکیٹس کا رخ کرنا ہوگا۔ بھارت، لاطینی امریکہ اور شمالی افریقہ جیسے خطوط میں اگلے ایک ارب موٹرسٹوں کے لیے زبردست مواقع موجود ہیں۔
یورپی کار ساز اداروں کے لیے اب یہ وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی کاروباری حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی لائیں۔ اب تک مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو اور فولکس ویگن جیسی بڑی یورپی کمپنیاں زیادہ تر چینی صارفین کو راغب کرنے میں مصروف رہی ہیں، تاہم اب چین کا بازار آہستہ آہستہ سنترپت (سچوریٹڈ) ہوتا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں اگلے ایک ارب کار صارفین ایسے خطوں سے سامنے آنے والے ہیں جو اب تک زیادہ توجہ کا مرکز نہیں بن سکے۔ ان حالات میں یورپی آٹوموبائل انڈسٹری کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی کمپنیوں کو چین سے آگے نکل کر بھارت، لاطینی امریکہ، شمالی افریقہ اور دیگر غیر دریافت شدہ منڈیوں کا رخ کرنا چاہیے۔ ان خطوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں اضافہ آٹوموبائل انڈسٹری کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کر رہا ہے۔ اگرچہ ان مارکیٹس میں چیلنجز بھی موجود ہیں، لیکن طویل المدتی ترقی کے لیے ان علاقوں کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہے۔
دوسری جانب، چینی کار ساز ادارے بھی عالمی سطح پر اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں اور برقی گاڑیوں (EVs) کی پیداوار میں آگے نکل رہے ہیں۔ ایسے میں یورپی برانڈز کے لیے مسابقت سخت ہوتی جا رہی ہے۔ اگر مرسڈیز، بی ایم ڈبلیو اور فولکس ویگن جیسی نامور کمپنیاں دنیا کی نئی اور ابھرتی ہوئی مارکیٹس میں بروقت قدم نہیں رکھتیں، تو وہ عالمی آٹوموبائل مارکیٹ میں اپنی برتری کھو سکتی ہیں۔