World
وزیر اعظم بالین شاہ کی نئی سفارتی حکمت عملی اور غیر ملکی سفیروں سے ملاقاتیں
منصب سنبھالنے کے پہلے سو دن مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم بیدریندر شاہ نے اپنی سفارتی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔ اپنے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں وہ غیر ملکی سفارت کاروں سے ون آن ون ملاقاتیں کرنے سے گریزاں تھے۔
کاٹھمنڈو: نیپال میں حکومت کے سو دن مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم بیدریندر شاہ کا سفارتی رویہ اور اندازِ عمل نمایاں طور پر تبدیل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اقتدار سنبھالنے کے ابتدائی دنوں میں انہوں نے غیر ملکی سفارت کاروں کے ساتھ براہ راست یا انفرادی ملاقاتیں کرنے سے گریز کیا تھا اور وہ اس حوالے سے کافی محتاط پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ تاہم اب صورتحال میں تبدیلی آرہی ہے اور وہ دنیا کے اہم اور بڑے ممالک کے سفیروں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
اس تبدیلی کو بین الاقوامی اور ملکی سطح پر کافی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی بھی ملک کے سربراہ کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سفارتی روابط کے بغیر معاشی و سیاسی استحکام حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ابتدائی دور میں تنہائی پسندی یا صرف اندرونی امور پر توجہ مرکوز رکھنے کی پالیسی کے بعد اب حکومت بیرونی دنیا بالخصوص بڑے طاقتور ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی راہ پر گامزن ہو چکی ہے۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کا یہ نیا انداز ملک کے مفادات کو آگے بڑھانے اور عالمی سطح پر نیپال کی پوزیشن کو بہتر کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ غیر ملکی سفیروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی یہ ملاقاتیں اس بات کی علامت ہیں کہ حکومت عملیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطے اور دنیا کے دیگرممالک کے ساتھ خوشگوار اور مستحکم تعلقات استوار کرنے کی خواہاں ہے۔
حکومتی ترجمان کے مطابق یہ اقدامات ملک کی ترقی اور بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس نئے سفارتی نقطہ نظر سے ملکی سیاست اور خارجہ امور پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، جس پر اندرون اور بیرون ملک گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔