Business
وال اسٹریٹ میں ٹرمپفلیشن اور اسٹاک مارکیٹ کریش کے خدشات
وال اسٹریٹ کی حالیہ بلند ترین تیزی کو 'ٹرمپفلیشن' کے خدشات اور مصنوعی ذہانت کے دباؤ کی وجہ سے ایک نئے امتحان کا سامنا ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود زیادہ مدت تک برقرار رکھنے کی توقعات نے سرمایہ کاروں میں تشویش بڑھا دی ہے۔
وال اسٹریٹ کی اب تک کی ریکارڈ تیزی کو اب ایک نئے اور سنگین چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ مالیاتی منڈیوں میں 'ٹرمپفلیشن' کے خدشات تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پیدا ہونے والے کاروباری دباؤ اور پالیسی ساز سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتوں نے سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں بنیادی پی سی ای (PCE) انفلیشن کی شرح 3.3 فیصد پر برقرار ہے، جبکہ ٹریژری ییلڈز میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان تمام معاشی اشاریوں نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں کمی کرنے کے بجائے اسے طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی متوقع پالیسیوں کے معیشت پر اثرات کے حوالے سے جو اصطلاح 'ٹرمپفلیشن' کے طور پر زیرِ بحث ہے، وہ دراصل مہنگائی کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خدشہ ظاہر کرتی ہے۔ جب شرح سود طویل مدت تک زیادہ رکھی جاتی ہے تو اس سے کاروباری اداروں کے لیے قرض لینا مہنگا ہو جاتا ہے، جس کے براہ راست اثرات ان کی منافع بخش اور کارکردگی پر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ کے بڑے سرمایہ کار اب انتہائی محتاط انداز میں مارکیٹ کی نقل و حرکت کا مشاہدہ کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے مالیاتی جھٹکے سے بچا جا سکے۔
اس کے علاوہ، مصنوعی ذہانت یا اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کے اخراجات اور اس کی وجہ سے مارکیٹ میں ہونے والی قیمتوں کی تبدیلی نے بھی غیر یقینی کو ہوا دی ہے۔ کمپنیاں اے آئی انفراسٹرکچر پر بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں، لیکن اس کا فوری ریٹرਨ کیا ہوگا، یہ ابھی تک غیر واضح ہے۔ ان تمام عوامل کے امتزاج نے اسٹاک مارکیٹ میں کریش کے خطرات کو بڑھا دیا ہے، اور اگر فیڈرل ریزرو نے اپنی پالیسیوں میں نرمی نہ کی تو آنے والے دنوں میں منڈیوں کا یہ دباؤ مزید گہرا ہو سکتا ہے۔