Technology
وولفسٹین گیم جرمنی میں بغیر سنسرشپ کے ریلیز
مشہور ویڈیو گیم رٹرن ٹو کیسل وولفسٹین کو جرمنی میں نازی علامات سے متعلق سخت قوانین کی وجہ سے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پابندی اور کٹائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب حکام نے اس کلاسک گیم کو ملک میں بغیر کسی سنسرشپ کے جاری کرنے کی باضابطہ اجازت دے دی ہے۔
ویڈیو گیمنگ کی تاریخ میں ایک طویل عرصے سے چلی آنے والی انوکھی پابندی کا بالآخر خاتمہ ہو گیا ہے۔ چوبیس سال کے طویل انتظار کے بعد کلاسک فرسٹ پرسن شوٹر گیم 'رٹرن ٹو کیسل وولفسٹین' کو اب جرمنی میں بغیر کسی کٹائی اور سنسرشپ کے تقسیم کرنے کی باضابطہ اجازت مل گئی ہے۔ اس گیم کو ابتدائی طور پر جرمنی میں سخت قوانین کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، جو ملک میں نازی علامات، سوہاسکا اور دیگر متعلقہ نشانات کی نمائش پر پابندی عائد کرتے تھے۔ سنہ 2001 میں اپنی ریلیز کے وقت اس گیم کو جرمن مارکیٹ میں لانے کے لیے اس کے نام، مکالموں اور بصری مناظر میں نمایاں تبدیلیاں کرنا پڑی تھیں تاکہ وہ مقامی قوانین پر پورا اتر سکے۔ کوئیک کان کے موقع پر سامنے آنے والی ایک معمولی سی ٹویٹ کے ذریعے اس بات کا انکشاف ہوا کہ اب حالات بدل چکے ہیں۔ جرمن حکام نے اس تاریخی گیم کو اس کی اصل حالت میں کھلاڑیوں کے لیے دستیاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جسے گیمنگ کمیونٹی کی جانب سے ایک خوش آئند قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ جرمنی میں حالیہ برسوں کے دوران تفریحی اور آرٹ کے شعبوں میں نازی علامات کے استعمال سے متعلق قوانین میں کچھ نرمی لائی گئی ہے، بشرطیکہ ان کا مقصد پروپیگنڈا نہ بلکہ تاریخی عکاسی ہو۔ اس پالیسی تبدیلی کے بعد اب نہ صرف نئے بلکہ پرانے کلاسک گیمز کے لیے بھی اپنی اصل شکل میں جرمن مارکیٹ تک رسائی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔ رٹرن ٹو کیسل وولفسٹین کے مداح اب اس کلاسک تجربے سے بالکل اسی طرح لطف اندوز ہو سکیں گے جیسا کہ اس کے تخلیق کاروں نے دو دہائی قبل اس کا تصور کیا تھا۔ اس خبر نے پرانے گیمرز کے دلوں میں یادیں تازہ کر دی ہیں اور صنعت کے ماہرین اسے ویڈیو گیمز کی تاریخی حیثیت کو تسلیم کرنے کی طرف ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں۔