World
آئرلینڈ کی دفاعی حکمت عملی: ڈرونز میں سرمایہ کاری کی تجویز
آئرلینڈ کی دفاعی اور سکیورٹی ضروریات کو مہنگے لڑاکا طیاروں اور بحری جہازوں کے بجائے جدید ترین ڈرونز اور ہائی ٹیک آلات کے ذریعے بہتر طریقے سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات ایک سابق برطانوی سکیورٹی عہدیدار نے اپنے ایک بیان میں کہی ہے۔
آئرلینڈ کو اپنی مستقبل کی دفاعی اور سکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے روایتی فوجی ساز و سامان جیسے کہ جنگی طیاروں، ٹینکوں اور بحری جہازوں کے حصول پر بڑی رقم خرچ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک سابق برطانوی سکیورٹی عہدیدار نے تجویز پیش کی ہے کہ آئرلینڈ جیسے ملک کے لیے، جس کی جغرافیائی اور سیاسی پوزیشن منفرد ہے، جدید ترین ڈرونز اور دیگر ہائی ٹیک آلات میں سرمایہ کاری کرنا زیادہ سودمند اور مؤثر ثابت ہوگا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی فوجی طاقت کے مقابلے میں جدید ٹیکنالوجی کم لاگت میں زیادہ بہتر نتائج فراہم کر سکتی ہے۔
حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر جنگی حکمت عملیوں میں ڈرونز اور غیر فضائی و بحری روبوٹک سسٹمز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ آئرلینڈ کی حکومت بھی اپنے دفاعی اخراجات اور پالیسیوں کا از سر نو جائزہ لے رہی ہے تاکہ بدلتے ہوئے عالمی خطرات اور سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ سابق برطانوی سکیورٹی عہدیدار کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ کو بحری گشت اور فضائی نگرانی کے لیے بھاری بھرکم جنگی جہازوں اور لڑاکا جیٹس کے پیچھے بھاگنے کے بجائے خودمختار ڈرون سسٹمز کا انتخاب کرنا چاہیے، جن کی دیکھ بھال اور آپریشنل لاگت بھی نسبتاً کم ہوتی ہے۔
اس تجویز کے بعد آئرلینڈ کے دفاعی حلقوں میں بھی نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا ملک کو روایتی افواج کو مضبوط کرنا چاہیے یا پھر ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی پر مبنی دفاعی ڈھانچہ استوار کرنا چاہیے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ روایتی طور پر ایک غیر جانبدار ملک رہا ہے اور اسے کسی بڑی جنگی طاقت کے خلاف روایتی فوج کی اتنی زیادہ ضرورت نہیں ہے جتنی کہ سمندری حدود کی نگرانی اور سائبر سکیورٹی جیسے امور میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید سنسرز کا استعمال اس کے دفاعی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔
مستقبل میں آئرلینڈ کی پارلیمنٹ اور دفاعی کمیٹی اس تجویز پر مزید غور کر سکتی ہے تاکہ ملک کے محدود وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال میں لایا جا سکے۔ اگر آئرلینڈ اس تجویز پر عمل درآمد کرتا ہے تو وہ یورپی خطے میں ایک منفرد دفاعی ماڈل پیش کر سکتا ہے جہاں افرادی قوت اور مہنگے ہتھیاروں کے بجائے ٹیکنالوجی کو کلیدی اہمیت دی جائے۔ اس سے نہ صرف ملکی خزانے پر بوجھ کم ہوگا بلکہ جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے صلاحیتوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔