LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کا دفاعی معاہدہ: ایران کا اہم بیان

News Image
تہران نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے خطے میں امریکہ کے کردار اور سوچ کی تبدیلی قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ اس معاہدے سے خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔
تہران: ایران کا کہنا ہے کہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان طے پانے والا سکیورٹی معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک کی امریکہ کے تئیں روایتی سوچ میں تبدیلی آ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں علاقائی سطح پر ہونے والی اس دفاعی اور سکیورٹی پیش رفت کو بین الاقوامی سطح پر بھی خاصی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور مختلف ممالک اس پر اپنے تجزیے پیش کر رہے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس معاہدے کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نوعیت کے علاقائی معاہدوں سے خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔ تہران کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس tripartite معاہدے سے کسی بھی فریق کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کا مقصد علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔ مبصرین کے مطابق، ترکی، سعودی عرب اور پاکستان جیسے اہم مسلم ممالک کا قریب آنا اور سکیورٹی امور پر متفق ہونا عالمی سیاست اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کے تناظر میں ایک بڑا سفارتی موڑ ہے۔ اس معاہدے نے خطے میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے جس کی گونج واشنگٹن تک سنائی دے رہی ہے۔ اس سے قبل مختلف خبر رساں اداروں نے اس دفاعی معاہدے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ اتحاد نہ صرف عسکری اور دفاعی تعاون کو فروغ دے گا بلکہ اقتصادی اور سیاسی سطح پر بھی دیرپا شراکت داری کی بنیاد رکھے گا۔ ترکی کی جانب سے بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس تعاون کے دائرہ کار کو مزید وسعت دی جائے گی اور اس کا ہدف کسی تیسرے ملک کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں ہے۔ ایرانی قیادت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے اقدامات خطے کو بیرونی مداخلت سے پاک کرنے اور مقامی سطح پر تنازعات کے حل کے لیے موثر ثابت ہوں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاہدے میں مزید ممالک کے شامل ہونے کے امکانات بھی موجود ہیں، جو کہ خطے میں ایک نئے سکیورٹی آرکیٹیکچر کی تشکیل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔