Business
ایف بی آر اصلاحات اور ٹیکس وصولی کے حوالے سے وزیراعظم کی اہم ہدایات
وزیراعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے پر بھی زور دیا ہے۔
اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ڈھانچے میں اصلاحات کے عمل کو مزید تیز کرنے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس نظام میں شفافیت اور بہتری ناگزیر ہے، اس لیے اصلاحاتی عمل میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ مقررہ ریونیو اہداف کے حصول کے لیے اپنی کوششیں دوگنی کر دیں۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور تمام غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف بلاامتیاز اور سخت قانونی کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ قومی خزانے کو ہونے والے نقصانات کا سدباب کیا جا سکے۔ دوسری جانب، کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (KTBA) نے بھی ایف بی آر چیئرمین پر زور دیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کے ریفنڈز کی فوری اور آسان ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ کاروباری برادری کے مشکلات میں کمی آ سکے۔ اس کے علاوہ، ملک بھر کے تاجروں اور بزنس چیمبرز کے ساتھ ہونے والے حالیہ مذاکرات میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کاروباری طبقے کے مسائل اور شکایات کے فوری ازالے کے لیے مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ یہ کمیٹیاں ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان پل کا کردار ادا کریں گی، جس سے ٹیکس کے معاملات میں بہتری آنے اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایف بی آر کی اصلاحات اور تاجر برادری کے ساتھ تعاون کا یہ تسلسل ملک کو موجودہ مالیاتی چیلنجز سے نکالنے میں اہم ثابت ہوگا۔ حکومت کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ٹیکس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ ملک کا مالیاتی ڈھانچہ مضبوط ہو سکے۔