LIVE
Loading Breaking News...

بینک آف جاپان کی شرح سود پالیسی اور ستمبر کے امکانات

News Image
بینک آف جاپان کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے اضافے کی بحث نے مالیاتی منڈیوں میں ستمبر کے دوران کسی ممکنہ اقدام کی توقعات کو تقویت دے دی ہے۔ اس پیشرفت کے بعد جاپانی ین اور دیگر عالمی مالیاتی اشاریوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ٹوکیو: بینک آف جاپان (بی او جے) کی جانب سے شرح سود میں تیز رفتار اضافے کے حوالے سے جاری مباحثوں نے مالیاتی منڈیوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لی ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق اس بحث نے ستمبر کے دوران شرح سود میں کسی نئے اقدام کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے۔ مالیاتی اداروں کے ابتدائی اعداد و شمار اور غیر ملکی ز مبادلہ کی مارکیٹوں میں ہونے والی ہلچل اس بات کی غماز ہے کہ سرمایہ کار اور تجزیہ کار جاپانی مانیٹری پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں پر انتہائی قریب سے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ کاروں اور بینکنگ اداروں کی جانب سے اس صورتحال کا مختلف زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ بارکلیز جیسے بڑے اداروں کا خیال ہے کہ بینک آف جاپان اکتوبر تک اپنے فیصلے کو برقرار رکھ سکتا ہے، تاہم ستمبر کے امکانات بھی اب خارج از امکان نہیں رہے۔ ایشیائی مارکیٹوں میں ہفتے کا آغاز افراط زر کے اعداد و شمار اور جاپانی مرکزی بینک کے ممکنہ اقدامات کی نگرانی کے ساتھ ہوا ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں نیا تحرک پیدا ہو رہا ہے۔ جاپانی ین کی قدر اور شرح سود کے فرق کے حوالے سے ایچ ایس بی سی اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ مداخلت کے باوجود شرح سود کا فرق ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ مارکیٹ کے شرکاء اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا بی او جے اپنی روایتی نرم مالیاتی پالیسی کو الٹنے میں مزید تیزی لائے گا یا نہیں۔ آئندہ دنوں میں آنے والے معاشی اشاریے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ مرکزی بینک ستمبر کے اجلاس میں کیا حتمی لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔