Technology
آئی فون 18 پرو کی تیاری کی لاگت میں بڑا اضافہ
عالمی سطح پر میموری چپس کے جاری بحران کی وجہ سے آئندہ آنے والے آئی فون اٹھارہ پرو کی مینوفیکچرنگ لاگت میں نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایپل کمپنی کو شپمنٹ جاری رکھنے کے لیے اپنے منافع کے مارجن میں کٹوت کرنا پڑ سکتی ہے۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی انڈسٹری کو اس وقت شدید نوعیت کے میموری بحران کا سامنا ہے، جس کے اثرات اب دنیا کے سب سے بڑے برانڈز پر واضح ہونے لگے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ایپل کے آنے والے فلیگ شپ اسمارٹ فون 'آئی فون 18 پرو' کی تیاری کی لاگت میں چالیس فیصد تک کا بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ مارکیٹ ریسرچ فرم ٹرینڈ فورس کی ایک تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پرزہ جات کی قیمتوں میں اضافے اور خاص طور پر میموری چپس کی قلت کے باعث ایپل کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔
رپورٹ کے مطابق آئی فون اٹھارہ پرو کے بل آف میٹریلز (BOM) کی لاگت میں متوقع اچھال ایپل کی پرافٹ مارجنز کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ اگرچہ ایپل کی کوشش ہوگی کہ وہ صارفین پر براہ راست قیمتوں کا بوجھ کم سے کم منتقل کرے، تاہم کمپنی کے لیے اپنے موجودہ منافع کے مارجن کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ میموری بحران کی یہ لہر صرف ایپل تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری اسمارٹ فون انڈسٹری کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے، لیکن پریمیم ڈیوائسز بنانے والے برانڈز اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایپل کو اپنی سپلائی چین کو مستحکم کرنے اور پیداواری لاگت کو قابو میں رکھنے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر مینوفیکچرنگ لاگت میں یہ اضافہ پیش گوئی کے مطابق چالیس فیصد تک رہتا ہے، تو آنے والے دنوں میں ایپل کی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ کمپنی کے لیے ایک طرف عالمی منڈی میں اپنے شیئرز کو برقرار رکھنا لازمی ہے تو دوسری طرف بڑھتی ہوئی لاگت کو برداشت کرنا بھی ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔