World
لڑکی سے زیادتی کا مجرم پناہ گزین قید، عدالت کا فیصلہ
برطانیہ میں اسنیپ چیٹ پر خود کو چودہ سالہ لڑکا ظاہر کرکے تیرہ سالہ لڑکی کو ورغلانے اور زیادتی کرنے والے پناہ گزین کو عدالت نے قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ واقعہ ایک نیچر ریزرو میں پیش آیا جہاں مجرم نے معصوم بچی کو نشانہ بنایا۔
برطانیہ میں ایک سنگین جرم کا مکروہ واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک پناہ گزین کو تیرہ سالہ لڑکی کو ورغلانے، اس کا استحصال کرنے اور زیادتی کا نشانہ بنانے کے جرم میں عدالت کی طرف سے قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ عدالت میں پیش کی جانے والی تفصیلات کے مطابق مجرم عبدالخان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم اسنیپ چیٹ کا استعمال کیا اور متاثرہ بچی کے ساتھ دھوکہ دہی سے رابطہ کیا۔ اس نے اپنی اصل عمر چھپاتے ہوئے خود کو چودہ سالہ نوجوان ظاہر کیا تاکہ معصوم بچی کا اعتماد حاصل کر سکے اور اسے اپنے جال میں پھنسا سکے۔
تفتیش کاروں اور استغاثہ کے مطابق، ملزم نے سوشل میڈیا پر دوستی کرنے کے بعد بچی کو ایک نیچر ریزرو میں ملنے کے لیے رضامند کیا۔ اس تنہا اور غیر محفوظ مقام پر پہنچنے کے بعد، ملزم نے لڑکی کو شدید جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس گھناؤنے فعل کے بعد متاثرہ بچی نے ہمت جمع کی اور پولیس کو تمام واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا۔
پولیس اور متعلقہ اداروں نے ڈیجیٹل شواہد اور اسنیپ چیٹ پر ہونے والی گفتگو کی بنیاد پر ملزم عبدالخان کو گرفتار کر لیا۔ عدالت میں ٹرائل کے دوران استغاثہ نے تمام ناقابلِ تردید شواہد جج کے سامنے پیش کیے، جن سے ثابت ہوا کہ ملزم نے جان بوجھ کر نابالغ بچی کو دھوکہ دیا اور انتہائی گھناؤنا جرم کیا۔ عدالت نے تمام شواہد اور مجرم کے اعترافِ جرم یا ثابت شدہ الزامات کی روشنی میں اسے طویل قید کی سزا سنادی۔
اس واقعے کے بعد بچوں کے حقوق اور آن لائن سیفٹی پر کام کرنے والے اداروں نے ایک بار پھر والدین اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر نابالغ بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ اس قسم کے درندوں سے کم عمر بچوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ عدالت کے اس فیصلے کو سماجی حلقوں میں سراہا گیا ہے اور اسے ایک اہم انصاف قرار دیا گیا ہے۔