World
غیر ملکی قیدیوں کی منتقلی اور جیلوں میں اصلاحات کا نیا منصوبہ
برطانوی سیاست میں اصلاحات کے ایک نئے پلان کے تحت جیلوں میں جگہ کی کمی دور کرنے کے لیے غیر ملکی قیدیوں کو ان کے آبائی ممالک منتقل کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں نائٹنگیل نامی نئی جیلیں تعمیر کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
برطانیہ میں جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے اور گنجائش کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نئی اور اہم تجویز سامنے آئی ہے۔ اس تجویز کے مطابق جیلوں سے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کے عمل کو ختم کرنے کے لیے غیر ملکی قیدیوں کو ان کے اپنے ممالک میں بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی جماعت ریفارم کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس لائحہ عمل کا بنیادی مقصد ملکی جیلوں پر بوجھ کم کرنا اور انصاف کے نظام کو زیادہ موثر بنانا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس اقدام سے جیلوں کے اندر موجود غیر ضروری دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے اور مقامی سطح پر سنگین جرائم میں ملوث افراد کے لیے جگہ پیدا کی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کا دوسرا اہم حصہ نائٹنگیل نامی نئی جیلوں کی تعمیر ہے۔ ان اضافی جیلوں کی تعمیر سے سسٹم کی مجموعی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس سے قیدیوں کو رکھنے کے لیے درکار جگہ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں جیلوں کی صلاحیت پہلے ہی اپنی حدوں کو چھو رہی ہے اور اس طرح کے سخت لیکن ضروری اقدامات کے بغیر اس بحران پر قابو پانا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم اس منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے قانونی اور سفارتی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جن میں غیر ملکی قیدیوں کی منتقلی کے معاہدے اور انسانی حقوق کے امور شامل ہیں۔ اس کے باوجود اصلاحات کے حامی پرامید ہیں کہ اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف جیلوں میں گنجائش کا مسئلہ حل ہوگا بلکہ عام شہریوں کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔ آئندہ آنے والے دنوں میں اس تجویز پر مزید بحث متوقع ہے تاکہ اس کے تمام ممکنہ پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔