Politics
سابق سیاسی مشیر کا اخراجات میں فراڈ کا اعتراف
برطانیہ میں ایک سابق سیاسی مشیر نے اراکین پارلیمنٹ کے اخراجات کے دعوؤں میں فراڈ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ جرائم اس وقت کیے گئے جب وہ ممبر پارلیمنٹ کرسچن ویک فورڈ کے ساتھ کام کر رہے تھے۔
برطانیہ سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک سابق سیاسی مشیر نے پارلیمانی اخراجات کے دعوؤں میں فراڈ کرنے کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس قانونی معاملے نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ یہ معاملہ براہ راست پارلیمنٹ کے مالیاتی امور اور اراکین کے دفاتر سے جڑا ہوا ہے۔ عدالت میں اس حوالے سے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جہاں ملزم کی جانب سے الزامات کو تسلیم کیا گیا ہے۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق، ملزم میتھیو ٹوربیٹ (Matthew Torbitt) اس وقت بوری ساؤتھ سے تعلق رکھنے والے ممبر پارلیمنٹ کرسچن ویک فورڈ (Christian Wakeford) کے دفتر میں فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ یہ جرائم اسی دورانیے میں کیے گئے جب وہ پارلیمانی امور اور اخراجات کے معاملات میں معاونت کر رہے تھے۔ سرکاری فنڈز کے غلط استعمال اور مالیاتی بے ضابطگیوں کے انکشاف کے بعد اس پورے معاملے کو سنجیدگی سے جانچ پڑتال کے لیے متعلقہ اداروں کے حوالے کیا گیا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں اور استغاثہ کے مطابق، سرکاری فنڈز یا پارلیمانی اخراجات میں بدعنوانی کسی بھی صورت میں ناقابل قبول ہے اور اس پر قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس کیس کی مزید سماعت آنے والے دنوں میں متوقع ہے جہاں عدالت کی طرف سے ملزم کے خلاف حتمی فیصلے اور سزاؤں کا اعلان کیا جائے گا۔ اس واقعے کے بعد سیاسی شخصیات کے دفاتر میں کام کرنے والے عملے کی جانچ پڑتال اور فنڈز کے آڈٹ کے نظام کو مزید سخت کرنے کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔