Pakistan
وزیراعظم شہباز شریف کا پاک سعودی ترکی دفاعی معاہدے پر اہم بیان
وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد خطے میں امن اور ترقی کا فروغ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ تاریخی معاہدہ نہ صرف تینوں برادر ملکوں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے طاقت کا باعث بنے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حال ہی میں طے پانے والا مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ مکمل طور پر دفاعی مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد ہرگز کسی قسم کی جارحیت کرنا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ اہم ترین سہ فریقی دفاعی معاہدہ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا، جس کا مقصد اجتماعی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا اور signatory ممالک میں سے کسی ایک پر بھی حملے کو سب پر حملہ تصور کرنا ہے۔وزیراعظم نے کابینہ کے ارکان کو بتایا کہ اس معاہدے پر انہوں نے، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردگان نے دستخط کیے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے لیے بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نئی طاقت اور استحکام کا ذریعہ ثابت ہوگا۔ اس موقع پر انہوں نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت تمام متعلقہ عسکری قیادت کو اس اہم کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔وزیراعظم شہباز شریف نے انکشاف کیا کہ اس مشترکہ دفاعی معاہدے کے لیے کوششیں گزشتہ کئی سالوں سے جاری تھیں جو اب جمعہ کے روز بارآور ثابت ہوئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی ستمبر 2025 میں اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ پر دستخط کر چکے ہیں جبکہ پاکستان اور ترکی کے درمیان بھی دہائیوں سے دفاعی تعلقات اور انتظامات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم اور پاک فوج کو ہمیشہ حرمین شریفین کے دفاع کا اعزاز حاصل رہا ہے اور اس نئے معاہدے کے ذریعے اس دیرینہ رشتے کو مزید قانونی و اسٹریٹجک شکل دی گئی ہے۔دوسری جانب، او آئی سی (OIC) سمیت کویت، بحرین اور صومالیہ نے اس سہ فریقی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ ایران کی طرف سے بھی اس پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے جس میں علاقائی تعاون پر مبنی سلامتی کے نظام کو سراہا گیا ہے۔