World
یورپ میں گرمی کی شدید لہر، درجہ حرارت میں اضافے اور خشک سالی کا الرٹ
یورپ کے بیشتر ممالک ایک بار پھر شدید گرمی کی نئی لہر کی زد میں ہیں جس سے جنگلات میں آگ اور خشک سالی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ برطانیہ اور فرانس سمیت کئی ممالک میں انتہائی گرمی کے الرٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔
یورپ کے بیشتر ممالک ایک بار پھر شدید گرمی کی ایک نئی اور خطرناک لہر کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جس نے ماضی کی گرم ترین یادوں کو تازہ کر دیا ہے۔ اس سے قبل پڑنے والی شدید گرمی کی وجہ سے براعظم کے کئی دریا ریکارڈ نچلی سطح پر پہنچ گئے، تاریخ ساز جنگلات میں خوفناک آگ لگی اور ہزاروں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ پیر کے روز برطانیہ اور فرانس کے کئی حصوں میں انتہائی گرمی کے الرٹ جاری کیے گئے جہاں پارہ پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور ہنگری جیسے ممالک میں بھی غیر معمولی درجہ حرارت متوقع ہے جو عام طور پر اس طرح کی شدید گرمی کے عادی نہیں ہیں۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات کے مطابق، ملک میں موسم گرما کی پانچویں گرم ترین لہر داخل ہو رہی ہے جہاں کا بنیادی ڈھانچہ اتنے گرم موسم کے لیے تیار نہیں ہے۔ انگلینڈ کا نصف حصہ اور پورا ویلز پہلے ہی باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کروڑوں افراد کو پانی کے استعمال پر پابندیوں کا سامنا ہے۔ فرانس میں بھی قومی موسمیاتی ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ جنوب مشرق میں درجہ حرارت پینتیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے اور یہ لہر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ماہرین کے مطابق انسانی ساختہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے یورپ کرہ ارض پر سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ بن چکا ہے اور آنے والے برسوں میں گرمیوں کا موسم مزید شدید ہوگا۔
گرمی اور خشک سالی کے اس عالم میں یونان کے دارالحکومت ایتھنز کے قریب جنگل میں لگنے والی آگ کو بجھانے کے لیے سینکڑوں فائر فائٹرز اور امدادی عملہ مصروف ہے۔ اس سے قبل فرانس اور اسپین میں بھی اس موسم گرما میں تاریخ ساز جنگلات کی آگ ریکارڈ کی جا چکی ہے۔ دوسری طرف جرمنی کا دریائے رائن اور پولینڈ کا دریائے وسٹولا انتہائی کم آبی سطح کا شکار ہو چکے ہیں جس سے تجارتی بحری جہازوں کی نقل و حمل اور صنعتوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈینیوب دریا کی سطح کم ہونے کی وجہ سے ہنگری اور رومانیہ کے جوہری پلانٹس کو بھی کولنگ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ان تمام موسمیاتی شدت کے باوجود ایک فلکیاتی واقعہ بھی متوقع ہے جہاں بدھ کے روز یورپ کے کئی حصوں میں سورج گرہن دکھائی دے گا۔ یورپی خلائی ایجنسی اس سلسلے میں خصوصی سرگرمیوں کی میزبانی کر رہی ہے جبکہ یہ گرہن ایسے علاقوں کے اوپر سے گزرے گا جو پچھلے ماہ شدید جنگلات کی آگ سے بری طرح متاثر ہوئے تھے۔ ادھر طبی ماہرین اور اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مہینوں میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر حکومتیں اور ادارے انتہائی الرٹ ہیں۔