LIVE
Loading Breaking News...

امریکی کمیشن کی غیر ملکی ڈرونز پر پابندی کی تجویز

News Image
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے غیر ملکی ساختہ ڈرونز کے خلاف سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے انہیں پابندی کی زد میں لانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس نئی پالیسی کے تحت مشہور چینی برانڈز کے وہ ڈرونز بھی متاثر ہو سکتے ہیں جن میں جدید سنسرز اور لائڈر ٹیکنالوجی موجود ہے۔
امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) نے قومی سلامتی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے غیر ملکی ساختہ ڈرونز پر پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس نئی تجویز کے تحت ان تمام ڈرونز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو لائڈر (LiDAR) اور دیگر عسکری درجے کی جدید خصوصیات سے لیس ہیں۔ کمیشن کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کو باضابطہ طور پر فوجی درجے کا قرار دیا گیا ہے جس سے امریکی منڈی میں دستیاب متعدد مقبول ڈرون ماڈلز کی فروخت براہ راست متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر یہ تجویز حتمی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس سے ماضی میں منظور شدہ ڈرونز پر بھی ریٹرو ایکٹو پابندی عائد ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کا سب سے بڑا اثر دنیا کی معروف ڈرون ساز کمپنی ڈی جے آئی (DJI) کے مختلف ماڈلز پر پڑے گا، جو اس وقت امریکی مارکیٹ میں ایک بڑا حصہ رکھتے ہیں۔ ایف سی سی کا یہ قدم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکہ اپنی فضائی حدود اور حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے غیر ملکی ٹیکنالوجی بالخصوص چین سے آنے والے آلات کے حوالے سے کس قدر سخت گیر موقف اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، انڈسٹری کے ماہرین اور تجارتی حلقوں کی طرف سے اس ممکنہ پابندی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ زراعت، فوٹوگرافی اور سرچ اینڈ ریسکیو کے شعبوں میں کام کرنے والے پروفیشنلز کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمیشن اس تجویز پر مزید غور کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے حتمی ضابطہ کار جاری کیے جانے کا امکان ہے، جن کے بعد صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔