Technology
لندن کا کنگز کراس دنیا کا معروف اے آئی حب بن گیا
برطانیہ کا علاقہ کنگز کراس کبھی اپنی بدنامی کی وجہ سے جانا جاتا تھا جو اب دنیا بھر کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ یہاں دفاتر کے حصول کے لیے اسٹارٹ اپس میں شدید مقابلہ جاری ہے اور نئی سرمایہ کاری دھڑلے سے ہو رہی ہے۔
برطانیہ کا دارالحکومت لندن ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئے انقلاب سے گزر رہا ہے جہاں کبھی بدنام زمانہ سمجھا جانے والا علاقہ اب دنیا کے صف اول کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) حب کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ برطانوی میڈیا اور ٹیک کرنچ کی رپورٹس کے مطابق اس وقت ہر برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ کی یہ شدید خواہش ہے کہ اسے کنگز کراس کے علاقے میں دفتر کی جگہ مل جائے۔ اس علاقے کی مقبولیت اتنی بڑھ چکی ہے کہ وینچر کیپیٹل فرمز اور سرمایہ کار نئے بانیوں کو راغب کرنے کے لیے انوکھے اور پرکشش وعدے کر رہے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ کام کریں۔ یہ تبدیلی اس بات کی غماز ہے کہ کس طرح شہری منصوبہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی مل کر کسی بھی علاقے کی کایا پلٹ سکتے ہیں۔
کنگز کراس کی اس حیرت انگیز تبدیلی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں جدید ترین بنیادی ڈھانچہ، بہترین مواصلاتی رابطے اور معروف تعلیمی و تحقیقی اداروں سے قربت شامل ہے۔ گوگل اور ڈیپ مائنڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ ادارے پہلے ہی اس خطے میں اپنے دفاتر قائم کر چکے ہیں، جس کی وجہ سے دیگر چھوٹی کمپنیوں اور ریسرچرز کے لیے بھی یہاں کھینچے چلے آنے کی راہ ہموار ہوئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مقام اب محض ایک تجارتی مرکز نہیں رہا بلکہ یہ دنیا بھر کے بہترین دماغوں کے ملاپ کی جگہ بن چکا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر نئے آئیڈیاز اور حل پیش کیے جا رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے نزدیک اس رجحان نے لندن کی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جائیدادوں کی قیمتیں اور کرایے آسمان کو چھو رہے ہیں لیکن اس کے باوجود سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات یہاں سرمایہ کاری کرنے سے گریز نہیں کر رہیں۔ اس مسابقتی فضا میں جہاں ایک طرف نئے مواقع جنم لے رہے ہیں، وہیں دوسری طرف روایتی کاروباروں اور عام شہریوں کو بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے کچھ چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔ بہرحال، کنگز کراس کا یہ سفر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سخت محنت، بروقت فیصلوں اور ٹیکنالوجی پر توجہ کے ذریعے کسی بھی خطے کی تقدیر کو بدلا جا سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس مقام سے مزید انقلابی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔