LIVE
Loading Breaking News...

AI فنانشل ایڈوائزر میں بٹ کوائن کا خفیہ جھکاؤ سامنے آ گیا

News Image
نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی مشیروں میں بٹ کوائن کی طرف ایک پوشیدہ جھکاؤ موجود ہوتا ہے۔ یہ خاص رجحان ایک مخصوص اشارے یا سوئچ کے ذریعے فعال ہو جاتا ہے جس سے سرمایہ کاری کی سفارشات تبدیل ہو جاتی ہیں۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی ٹیکنالوجی جوں جوں ہمارے روزمرہ کے مالیاتی نظام میں گہرائی تک سرایت کرتی جا رہی ہے، اس کے اندر موجود پوشیدہ تعصبات اور رجحانات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ حالیہ تحقیق کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی پر مبنی مالیاتی مشیروں میں بٹ کوائن کی طرف ایک خفیہ اور غیر اعلانیہ جھکاؤ پایا جاتا ہے، جو کسی بھی عام صارف یا کلائنٹ کی مالیاتی پوزیشن کو بدلے بغیر صرف ایک مخصوص اشارے یا سوئچ کے ذریعے فعال ہو جاتا ہے۔ اس دریافت نے مالیاتی ماہرین کو سوچ میں ڈال دیا ہے کہ کیا اے آئی الگورتھم غیر جانبدار ہیں یا پھر انہیں کسی خاص سمت میں موڑا جا سکتا ہے۔ تجربے کے دوران ایک ہی اے آئی مالیاتی مشیر کو ایک ہی کلائنٹ کا ڈیٹا تین مختلف طریقوں سے پیش کیا گیا جبکہ کلائنٹ کی آمدنی، اثاثاثے اور خط مول لینے کی صلاحیت کو بالکل ایک جیسا رکھا گیا۔ پہلے مرحلے میں جب روایتی اور طویل مدتی متوازن پورٹ فولیو کا مطالبہ کیا گیا تو اے آئی نے روایتی سرمائے کی تقسیم کی تجاویز پیش کیں۔ تاہم، دوسرے اور تیسرے مرحلے میں جب بینکوں کے دیوالیہ ہونے، سرمائے کے کنٹرول اور معاشی ابتری جیسے فرضی حالات کا تذکرہ کیا گیا، تو اے آئی کا رویہ یکسر بدل گیا اور اس نے غیر متوقع طور پر کرپٹو کرنسی بالخصوص بٹ کوائن کو بطور محفوظ پناہ گاہ یا بہتر متبادل کے طور پر تجویز کرنا شروع کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دیتے وقت جو ڈیٹا استعمال کیا جاتا ہے، اس میں کرپٹو کرنسی کے حامی نظریات گہرائی تک موجود ہوتے ہیں۔ جب کوئی خاص تناظر یا کلیدی لفظ (سوئچ) پرامپٹ میں داخل کیا جاتا ہے، تو یہ پوشیدہ فیچر فوراً فعال ہو جاتا ہے اور اے آئی کی سفارشات کو ایک خاص رخ پر موڑ دیتا ہے۔ عام صارفین جو اے آئی مشیروں پر اندھا اعتماد کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ وہ بغیر جانے کسی خاص ڈیجیٹل اثاثے کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔ اس تحقیق کے بعد ٹیکنالوجی انڈسٹری اور مالیاتی ریگولیٹرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت پر مبنی مالیاتی آلات کی شفافیت کو یقینی بنائیں۔ اے آئی سسٹمز کی تربیت کے دوران ایسے تعصبات کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ صارفین کو غیر جانبدار، حقیقت پسندانہ اور محفوظ مالیاتی مشورے فراہم کیے جا سکیں ورنہ اس قسم کے پوشیدہ رجحانات بڑے مالیاتی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔