LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران کشمکش: کیا ایک نئی لامتناہی جنگ کا آغاز ہو رہا ہے؟

News Image
معروف ماہرِ عمرانیات علی کادیوار نے مارک لیمونٹ ہل کے ساتھ حالیہ گفتگو میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ لامتناہی جنگ کے خطرات پر روشنی ڈالی ہے۔ تاریخی تناظر میں یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ کیا دونوں ممالک کے تعلقات ایک دائمی کشمکش کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی نے عالمی سطح پر ایک بار پھر سنگین نوعیت کے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا دونوںممالک کے مابین موجودہ تناؤ کسی بڑی اور دائمی جنگ کی طرف پیش قدمی تو نہیں ہے۔ اس حوالے سے ممتاز ماہرِ عمرانیات علی کادیوار نے معروف میڈیا شخصیت مارک لیمونٹ ہل سے تفصیلی گفتگو کی ہے، جس میں انہوں نے تاریخی حقائق کی روشنی میں اس خطرے کا گہرائی سے تجزیہ کیا ہے۔ علی کادیوار نے تاریخی تناظر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ماضی کی پالیسیوں اور عسکری مداخلتوں نے مشرق وسطیٰ کے خطے کو طویل المدتی بحرانوں میں دھکیلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف اپنائی جانے والی طویل مدتی حکمت عملیوں اور معاشی پابندیوں کے نتائج نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی ذرائع کیمایوسی اور اعتماد کے فقدان کی وجہ سے کسی بھی غلط فہمی کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے، جو براہِ راست ایک بڑی عسکری تصادم کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ کوئی بھی فریق فوری طور پر ایک بڑی اور همہ گیر جنگ کا خواہاں نہیں دکھائی دیتا، تاہم موجودہ سیاسی اور عسکری حرکیات اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ تناؤ میں کمی کے امکانات دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں حکومتوں کے درمیان جاری لفظی جنگ اور خطے میں اتحادی قوتوں کی سرگرمیاں ایک ایسے دائرے کو جنم دے رہی ہیں جہاں سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور سفارتی حلقوں کی طرف سے بارہا یہ انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ اگر اس محاذ آرائی کو فوری طور پر گفت و شنید کے ذریعے حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ آخر میں، ماہرین کا یہ اصرار ہے کہ تاریخ کے ان اسباق سے سیکھنے کی ضرورت ہے جو ماضی کی لامحدود جنگوں سے حاصل ہوئے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے مابین دیرپا امن کا قیام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب فریقین محاذ آرائی کی پالیسی کو ترک کر کے باہمی مذاکرات اور سفارت کاری کو موقع دیں۔ بصورت دیگر، خطہ ایک ایسی طویل جنگ کا شکار ہو سکتا ہے جس کے نقصانات کا تخمینہ لگانا بھی مشکل ہے۔