LIVE
Loading Breaking News...

سات سو پچاس ارب ڈالر کی خطیر رقم اور عالمی معیشت پر اثرات

News Image
سات سو پچاس ارب ڈالر کی خطیر رقم دنیا کی کئی معیشتوں کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ اس مالیت سے دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر اہم منصوبے اور خریداری کی جا سکتی ہے۔
سات سو پچاس ارب ڈالر ایک ایسی خطیر رقم ہے جو عام انسانی تخیل سے باہر ہے۔ اتنی بڑی دولت کے ذریعے دنیا بھر میں تقریبا ہر قسم کی ناممکن نظر آنے والی اشیاء اور بڑے منصوبے خریدے جا سکتے ہیں۔ اگر اس مالیاتی حجم کا اندازہ لگایا جائے تو یہ دنیا کے کئی ترقی پذیر ممالک کی مجموعی قومی پیداوار (GNP) سے بھی کئی گنا زیادہ بنتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اتنی بڑی رقم کی قوتِ خرید پوری دنیا میں معاشی منظرنامے کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر ایک مثال کے طور پر دیکھا جائے تو جنوبی امریکہ کے دو اہم ممالک چلی اور کولمبیا کی مجموعی قومی پیداوار کو اگر آپس میں ملا لیا جائے، تب بھی اس رقم میں سے ایک سو ارب ڈالر سے زائد کی خطیر رقم بچ جاتی ہے۔ اتنی بچ جانے والی رقم خود اتنی بڑی ہے کہ اس سے دنیا کا کوئی بھی دوسرا بڑا ملک یا خطہ اپنی معیشت کو سہارا دے سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ دنیا میں چند مخصوص اداروں، حکومتوں یا افراد کے پاس کس قدر بے پناہ مالیاتی وسائل مرتکز ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے مالیاتی سنگ میل نہ صرف معاشی ماہرین بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی گہری سوچ کا مقام ہیں۔ اتنی بڑی رقم کا عالمی تجارت، سیاسی اثر و رسوخ اور معاشی پالیسیوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ دنیا کے اس موجودہ معاشی نظام میں جہاں وسائل کی تقسیم غیر مساوی ہے، سات سو پچاس ارب ڈالر جیسے اعداد و شمار مستقبل کے معاشی فیصلوں اور رجحانات کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی پیمانہ فراہم کرتے ہیں۔