LIVE
Loading Breaking News...

اے آئی اور سوشل میڈیا کا سولر انرجی پر منفی اثر

News Image
دیہی علاقوں میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور جعلی مواد سولر انرجی کے منصوبوں کے خلاف خدشات کو بڑھا رہا ہے۔ اس صورتحال سے کسانوں اور مقامی آبادی میں سولر پینلز کے حوالے سے غلط فہمیاں پیدا ہو رہی ہیں۔
دیہی علاقوں میں روایتی زراعت اور توانائی کے متبادل ذرائع کے درمیان کشمکش اس وقت مزید گہری ہو گئی ہے جب مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ غیر مصدقہ مواد اور سوشل میڈیا افواہوں نے سولر انرجی کے خلاف ماحول بنانا شروع کر دیا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، دیہی کمیونٹیز میں سولر پینلز اور صاف توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے خوف اور خدشات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی بنیادی وجہ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والا گمراہ کن مواد ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی سلیپ یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائے گئے فرضی بیانات، تصاویر اور ویڈیوز نے دیہی مکینوں بالخصوص کسانوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔ بہت سے مقامات پر یہ جھوٹی افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سولر فارمز زمین کو بنجر کر رہے ہیں یا صحت کے لیے نقصان دہ ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے بہت سے علاقوں میں سولر انرجی کے منصوبوں کے خلاف مقامی سطح پر مخالفت سامنے آ رہی ہے، جس سے گرین انرجی کی طرف منتقلی کا عمل سست پڑ گیا ہے۔ مقامی کسان اور زمیندار، جو پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس نئی ڈیجیٹل ڈس انفارمیشن کا آسانی سے شکار ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا الگورتھمز سنسنی خیز مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے خوف پر مبنی یہ کہانیاں حقیقت سے زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے اب حکومتی اداروں اور توانائی کے ماہرین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ آگے آئیں اور عوام میں درست معلومات فراہم کریں۔ سولر انرجی کے فروغ کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ دیہی علاقوں میں ڈیجیٹل لٹریسی کو بہتر بنایا جائے تاکہ لوگ اصلی اور نقلی معلومات میں فرق کر سکیں۔ اگر بروقت اس پروپیگنڈے کا توڑ نہ کیا گیا تو یہ نہ صرف صاف توانائی کے حصول کے قومی اہداف کو نقصان پہنچائے گا بلکہ دیہی معیشت کو بھی جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے محروم کر دے گا۔