World
پاکستان کا ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر کو دورے کی دعوت
پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے کی سلامتی اور سفارتی کوششوں کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان نے خطے میں جاری کشیدگی اور بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملے پر سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اہم سفارتی قدم اٹھایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلام آباد نے ایرانی وزیر خارجہ اور پارلیمانی اسپیکر کو پاکستان کے دورے اور اہم امور پر مذاکرات کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ یہ قدم خطے میں امن کے قیام اور مختلف ممالک کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام فریقین کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی پس منظر میں پاک ایران تعلقات کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے اس بات کی علامت ہیں کہ اسلام آباد خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے بحران کو روکنے کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاکستانی قیادت کی یہ کوششیں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ علاوہ ازیں، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے تناؤ کو کم کرنے کے حوالے سے بھی بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے تمام ممکنہ سفارتی راہیں استعمال کرے گا تاکہ جنگ یا تنازع کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔ متوقع دورے کے دوران دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، سرحدی سلامتی اور علاقائی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔