LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا فلپائن میں تیز رفتار بحری کٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ

News Image
امریکہ نے فلپائن کے ساتھ سکیورٹی تعلقات کو مزید گہرا کرتے ہوئے اس کے خصوصی اقتصادی زون میں گشت کے لیے چار تیز رفتار کٹرز تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد خطے میں میری ٹائم سکیورٹی کو فروغ دینا اور اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط کرنا ہے۔
امریکہ نے ایشیا کے خطے میں اپنی سکیورٹی ذمہ داریوں کو مزید گہرا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فلپائن کے لیے چار تیز رفتار گشتی بحری جہازوں (کٹرز) کی گردش پر مبنی تعیناتی کا فیصلہ کیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق یہ جدید کٹرز فلپائن کے خصوصی اقتصادی زون (EEZ) میں میری ٹائم سکیورٹی کو یقینی بنانے اور سمگگلنگ یا غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس اہم فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان عسکری اور دفاعی تعاون میں ایک نیا باب کھلے گا اور خطے کے اندر سلامتی کی صورتحال بہتر ہوگی۔ امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایشیا کے خطے سے پسپا نہیں ہو رہا بلکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ امریکی پالیسی سازوں نے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں ممالک کو 'پروٹیکٹوریٹ' یا محکوم بنانے کے بجائے مساوی شراکت دار بنانا چاہتے ہیں تاکہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کی جا سکے۔ اسٹریٹجک ماہرین کے مطابق فلپائن کی سمندری حدود میں ان گشتی جہازوں کی موجودگی سے کسی بھی بیرونی خطرے سے نمٹنے اور بحری راستوں کو محفوظ رکھنے میں بڑی مدد ملے گی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بحیرہ جنوبی چین اور اس سے ملحقہ علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر امریکہ کا یہ قدم انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فلپائن طویل عرصے سے امریکہ کا ایک کلیدی اتحادی رہا ہے اور دونوں ممالک کے مابین مشترکہ فوجی مشقیں اور سکیورٹی معاہدے باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں۔ ان چار تیز رفتار کٹرز کی تعیناتی سے نہ صرف فلپائن کی بحری صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سمندری حدود میں قانون کی پاسداری کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ امریکہ کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے ایشیائی اتحادیوں کی خودمختاری کا مکمل احترام کرتا ہے اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ ان کٹرز کی جلد ہی فلپائن میں تعیناتی عمل میں لائی جائے گی جس کے بعد باقاعدہ مشترکہ گشت کا آغاز کیا جائے گا، جو خطے کے امن اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔