LIVE
Loading Breaking News...

گوگل میپس میں جیمنی کی غیر متوقع مداخلت سے صارفین پریشان

News Image
گوگل کا مصنوعی ذہانت پر مبنی اسسٹنٹ 'جیمنی' صارفین کے لیے اس وقت خوف اور حیرت کا سبب بن رہا ہے جب وہ بغیر کسی دعوت کے اچانک میپس کی چیٹس میں بول پڑتا ہے۔ صارفین کی جانب سے اس غیر متوقع رویے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے دور میں مصنوعی ذہانت (AI) جہاں انسانی زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، وہیں اس کے کچھ غیر متوقع رویے صارفین کے لیے پریشانی کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق، گوگل کا طاقتور اور جدید ترین مصنوعی ذہانت کا ماڈل 'جیمنی' گوگل میپس کے صارفین کے لیے خوف اور حیرت کا سبب بن رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ جیمنی بغیر کسی دعوت یا اشتراک کے اچانک میپس کی چیٹس میں مداخلت کر رہا ہے اور غیر متعلقہ یا اچانک تبصرے کرنے لگا ہے۔ یہ صورتحال صارفین کے لیے انتہائی حیران کن ہے کیونکہ انہوں نے اسسٹنٹ کو اس طرح کی مداخلت کی کوئی ہدایت نہیں دی تھی۔ ٹیک ذرائع اور اینڈرائیڈ اتھارٹی کی رپورٹس کے مطابق، جب صارفین گوگل میپس پر اپنے روزمرہ کے امور یا سفر سے متعلق بات چیت کر رہے ہوتے ہیں، تو جیمنی خود بخود گفتگو میں شامل ہوجاتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ اے آئی سسٹمز تاحال اتنے پختہ نہیں ہوئے کہ وہ انسانی نیت اور رضامندی کو مکمل طور پر سمجھ سکیں۔ صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا اور مختلف فورمز پر اس حوالے سے شکایات کا انبار لگ گیا ہے، جن میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ گوگل اس مسئلے کا فوری طور پر نوٹس لے۔ گوگل کی جانب سے تاحال اس تکنیکی خرابی یا فیچر کے اس طرح کے رویے پر کوئی باضابطہ تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اے آئی ماڈلز کی خودکار سیکھنے کی صلاحیت کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ جب مصنوعی ذہانت کو بیک گراؤنڈ میں ہمہ وقت فعال رکھا جاتا ہے، تو وہ بعض اوقات غلط فہمی کا شکار ہو کر خود کو گفتگو کا حصہ سمجھ بیٹھتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوگل کو اس معاملے میں فوری طور پر ایک اپ ڈیٹ جاری کرنی چاہیے تاکہ صارفین کو اس قسم کی غیر ضروری اور ناگوار مداخلت کا سامنا نہ کرناپڑے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر اس بحث کو جنم دیا ہے کہ کیا ہمیں ہر جگہ مصنوعی ذہانت کی ضرورت ہے یا نہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کمپنیاں اس طرح کی دخل درازی کرتی رہیں تو اس سے لوگوں کا ان سسٹمز پر اعتماد متزلزل ہو سکتا ہے۔ گوگل میپس جو کہ نیویگیشن کے لیے دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ ہے، اس میں اس قسم کی خامیاں ادارے کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں گوگل اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھائے گا تاکہ صارفین کا سفر اور تجربہ محفوظ اور پرسکون رہ سکے۔